پاکستانی مصالحتی ٹیم سے گفتگو کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے ۔تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ٹیلیفونک رابطے کر کے خطے کی صورتحال اور جنگ بندی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ گفتگو کی۔ایرانی خبرایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گفتگو میں خطے کی صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ نے بھی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ٹیلیفون کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ایران کے درمیان خطے کی صورتحال اور جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا۔ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد کی جانب سے امریکا ایران رابطوں میں جاری سفارتی کوششوں پر گفتگو کی گئی، اسحاق ڈار نے مسائل کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری پیشرفت ناگزیرہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ عباس عراقچی نے پاکستان کے تعمیری اور مثبت کردار کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا اور ایران سمیت مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں مختصر وفد کی پاکستان آمد کی اطلاع کو اہم سفارتی پیشرفت قرار دیدیا۔ذرائع نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے رابطے کے بعد نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا اور ان کو ایرانی ہم منصب سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا۔شہباز شریف اور اسحاق ڈار نے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور کشیدگی میں اضافے کے خدشات پر بات چیت کی جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کے مطابق نائب وزیر اعظم نے وزیر اعظم کو سفارتی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم بات چیت اور گفتگو کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد امن مذاکرات کے دوسرے رائونڈ کا امکان ہے۔امریکا کی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم بھی مذاکراتی عمل کیلئے اسلام آباد میں پہلے سے موجود ہے، پیش رفت پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم بات چیت اور گفتگو کا نتیجہ ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد کے بعد مسقط اور ماسکو کا دورہ کریں گے، دورے کا مقصد خطے میں جاری پیش رفت، دو طرفہ مشاورت اور جنگ کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ دورہ اسلام آباد کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔دوسری جانب اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے لیے ایرانی وزیرخارجہ کی سربراہی میں وفد کی آمد کی خبروں کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ، ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا مذاکرات کے دوسرے ممکنہ دور کے لیے ایرانی وفد کی آمد کی خبروں کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخلہ بدستور بند اور پولیس اہلکاروں کو اپنی ڈیوٹیوں پر پہنچنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔سلام آباد اور راولپنڈی جڑواں شہروں میں میٹروبس سروس سمیت پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہے۔یاد رہے کہ حکومت نے اس سے امریکا اور ایران کے مذاکرات کے پیش نظر ریڈ زون میں واقع سرکاری اور دیگر دفاتر بند رکھنے اور کام گھروں سے کرنے کی ہدایات جاری کردی تھیں اور اسی طرح ریڈزون میں ٹرانسپورٹ بھی محدود کردی تھی۔دریں اثناء امریکا ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ایرانی وفد کے پاکستان آنے کی خبر کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا منفی ہنڈریڈ انڈیکس مثبت ہوگیا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا ہنڈریڈ انڈیکس 1ہزار 498 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 70ہزار 672پوائنٹس پر بند ہوا۔ایرانی وفد کے پاکستان آنے کی خبر سامنے آ نے سے قبل پہلے سیشن میں انڈیکس 2 ہزار 165پوائنٹس کمی سے 1لاکھ 67ہزار 7پوائنٹس پر تھا۔دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔برینٹ خام تیل کی قیمت 107سے کم ہوکر 104ڈالر فی بیرل پر آگئی ۔ ڈبلیو ٹی آئی 2ڈالر کمی کے بعد 95ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا دکھائی دیا ہے۔







