پاکستان ہندکووان تحریک کی جانب سے 23 اپریل 1930 کے عظیم اور دردناک سانحہ قصہ خوانی کے شہداء کے ساتھ ان 12ہیروز کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر تنظیم کے رہنماؤں کے علاؤہ پشاور کی مختلف تنظیموں کے رہنماکے ساتھ خطیر تعداد میں پشاوری شامل ہونے۔ تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ دن ہماری تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جو بہادری، قربانی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی لازوال مثال ہے۔تحریک کے چیئرمین سقاف یاسر نے اپنے بیان میں کہا کہ ”سانحہ قصہ خوانی ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب قوم متحد ہو جائے تو وہ ہر ظلم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن سکتی ہے۔ آج ہمیں ان شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔صوبائی صدر اکبر سیٹھی نے کہا کہ 23 اپریل صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ یہ ہمارے لئے ایک پیغام ہے کہ ہم پشاوری ایک ہو کر اپنے حقوق، اپنی شناخت اور اپنی سرزمین کے لئے کھڑے ہوں۔ اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے اور اسی کے ذریعے ہم ایک مضبوط قوم بن کر ابھر سکتے ہیں۔اورایسا ہی ہوا جب 23اپریل کو انگریز حکومت نے صوبہ سرحد پراپنے کالے قانون کورائج کیا تو اہلیان پشاور نے ان کالے قانون کے بدلے اپنے سینہ پر گولیاں کھائیں پر جھکے نہیں بکے نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کے حالات میں ہمیں اختلافات کو بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا تاکہ ہم اپنے شہر اور قوم کی ترقی کے لئے مشترکہ کردار ادا کر سکیں۔پاکستان ہندکووان تحریک کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر سال شہداء قصہ خوانی کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کریں گے اور نئی نسل کو اس تاریخی واقعے کی اہمیت سے آگاہ کریں گے۔آخر میں شہداء کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور انکے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی گئی اور اس عہد کا اعادہ کیا گیا کہ ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔







