خیبرپختونخوا بھر میں میٹرک کے پریکٹیکل امتحانات کے آغاز سے قبل تعلیمی نظام پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، صوبے کے مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بیشتر سرکاری اور نجی سکولوں میں مناسب سائنس لیبارٹریاں موجود نہیں مگر اس کے باوجود طلبہ کو پریکٹیکل امتحانات میں بھاری نمبر دئیے جا رہے ہیں۔محکمہ تعلیم ذرائع کے مطابق فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی جیسے مضامین میں عملی تجربات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں لیکن صوبے کے کئی سکولوں میں نہ لیبارٹری رومز موجود ہیں نہ جدید آلات اور نہ ہی طلبہ کو عملی مشق کے مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔حیرت انگیز طور پر ہر سال پریکٹیکل نتائج میں بڑی تعداد میں طلبہ مکمل یا قریب مکمل نمبر حاصل کر لیتے ہیں، جس نے نظام تعلیم کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، کہ اگر سکولوں میں عملی سہولیات ہی موجود نہیں تو پھر پریکٹیکل امتحانات کس بنیاد پر لئے جا رہے ہیں۔شہریوں کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پریکٹیکل امتحانات محض رسمی کارروائی بن چکے ہیں، جہاں قابلیت اور مہارت کے بجائے صرف نمبروں کی دوڑ جاری ہے جبکہ عملی تربیت کے بغیر سائنس کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے جس کے خطرناک اثرات مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں۔اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے وقت میں ایسے ڈاکٹر، انجینئر اور سائنسدان سامنے آئیں گے جن کے پاس عملی مہارت اور تحقیقی صلاحیتوں کا فقدان ہوگا۔







