خیبرپختونخوا کے ارباب نیاز سٹیڈیم کے نام کی تبدیلی کے قوائد میں فوری ترمیم کی ہدایت، یہ پیشرفت پشاور ہائیکورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے سیکرٹری سپورٹس، کلچر، ٹورازم اینڈ یوتھ افیئرز کو ارسال کیے گئے ایک اہم خط میں ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کے معاملے پر موجودہ قواعد میں فوری ترامیم کی سفارش کر دی ہے۔ یہ پیشرفت پشاور ہائیکورٹ میں زیر سماعت سٹیڈیم کا نام تبدیلی کرکے عمران خان کے نام سے منسوب کرنے کے مقدمے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔درخواست گزار نے مو قف اختیار کیا ہے کہ عوامی مقامات کے ناموں کی تبدیلی کے قواعد کے تحت کسی بھی عوامی مقام کا نام تبدیل کرنے کے لیے 50 سال کا عرصہ گزرنا لازمی ہے، جبکہ ارباب نیاز سٹیڈیم کا نام 1987 میں رکھا گیا تھا اور اس شرط کی تکمیل ابھی نہیں ہوئی، ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے خط میں نشاندہی کی ہے کہ قواعد کی شق 5 میں 50 سال کی پابندی واضح طور پر درج ہے جبکہ شق 4 کی روح سے یہ تاثر ملتا ہے کہ قانون سازی کا مقصد سیاسی یا عہدے دار شخصیات کے زیر اثر فیصلوں سے اجتناب کرنا ہے۔خط میں حکومت کو متعدد اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی شق 113 کے تحت نام رکھنے اور تبدیل کرنے کے قواعد 1994 میں فوری ترامیم کی جائیں۔ مزید یہ کہ 50 سال کی شرط کو ختم کر کے اسے محض 30 دن تک محدود کیا جائے، جبکہ قواعد میں واضح طور پر زندہ افراد کے نام پر عوامی مقامات رکھنے کی اجازت بھی شامل کی جائے۔ایڈووکیٹ جنرل نے 30 جنوری 2018 کی پالیسی ہدایات پر نظر ثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔







