سیٹیزن فیسلٹیشن سنٹرز ‘ پراجیکٹ ڈائریکٹر تبادلے کیخلاف حکم امتناع جاری

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خیبر پختون خوا کے مختلف اضلاع میں سیٹیزن فیسلیٹیشن سنٹرز کے قیام سے متعلق پراجیکٹ ڈائریکٹر کے تبادلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا اور صوبائی حکومت سے اس بارے میں جواب طلب کرلیا ۔رٹ کی سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار پراجیکٹ ڈائریکٹر وقاص الہی کے وکلا محمد عارف فردوس اور واجد خان ایڈووکیٹس نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت اس وقت مختلف ضلعوں میں شہریوں کو سہولیات سے متعلق سنٹرز کا قیام عمل میں لارہی ہے اور یہ پراجیکٹ شروع ہے پراجیکٹ سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر 2 جولائی 2025 کو درخواست گزار وقاص الہی کو پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کردیا گیا جس کی منظوری تین سال کے لئے چیف سیکرٹری خیبر پختون خوا نے دی اور باقاعدہ طور پر اس کا علامیہ جاری ہوا ۔انہوں نے بتایاکہ کہ درخواست گزار کو 9 اپریل 2026 کو سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے اپنے عہدے سے ہٹا تے ہوئے انہیں اپنے محکمے میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی اور ڈاکٹر عاقب کو اس کا اضافہ چارج دے دیا گیا جس کا سیکرٹری مجاز ہی نہیں کیونکہ چیف سیکرٹری کے احکامات سیکرٹری کسی طور پر استعمال نہیں کرسکتا ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ پراجیکٹ پالیسی کے تحت اس کے موکل کو تین سال تک اسے اس عہدے پر برقرار رکھنا ضروری ہے انہوں نے عدالت کوبتایا کہ یہ اقدام غیرائینی اس تناظر سے بھی ہے کہ درخواست گزار کو سنیں بغیر اسے او ایس ڈی بنا دیا گیا جو خود صوبائی حکومت کے پراجیکٹ پالیسی کے خلاف ہے اس لئے اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے اور ڈاکٹر محمد عاقب کو اضافی چارج پر پراجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے تعیناتی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست گزار کے تبادلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا اور قرار دیا کہ اگر درخواست گزار نے چارج نہیں چھوڑا تو وہ بدستور اپنے عہدے پر کام جاری رکھیں عدالت نے مزید سماعت 20 مئی کے لئے ملتوی کردیا اور صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed