تحریر: ایم بشیر عادل
خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کو حال ہی میں فیاض علی شاہ کی صورت میں ایک ایسا نیا سیکرٹری نصیب ہوا ہے، جن کی بیوروکریسی میں شناخت محض ایک عہدے دار کی نہیں، بلکہ ایک انتہائی ذہین، متحرک اور وژنری انتظامی افسر کی ہے۔ فیاض علی شاہ صاحب کا تعلق مردان کی مردم خیز مٹی سے ہے۔ یہ گویا کل ہی کی بات ہے جب ملاکنڈ آپریشن کے دوران آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال اور بحالی کا سنگین چیلنج درپیش تھا۔ اس نازک موڑ پر جب انہیں یہ ٹاسک سونپا گیا، تو انہوں نے اپنی غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں اور شب و روز کی محنت سے جو گراں قدر خدمات انجام دیں، وہ آج بھی صوبے کی انتظامی تاریخ کا ایک درخشاں حصہ ہیں۔ وہ عمر کے لحاظ سے جتنے جوان ہیں، اپنی خداداد صلاحیتوں، فہم و فراست اور حسنِ اخلاق کے باعث اتنے ہی سینئر اور معتبر بیوروکریٹ مانے جاتے ہیں۔ صوبے کے متعدد اہم ترین عہدوں پر کام کرنے کے بعد، حال ہی میں کمشنر مانسہرہ کے منصب سے اب انہیں سیکرٹری ہیلتھ کی یہ بھاری ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اس نئی تعیناتی کے بعد جہاں پورے صوبے کے عوام کی نظریں ان پر لگی ہیں، وہاں بالخصوص ضلع مردان کے عوام کی بہت ساری توقعات بھی ان سے وابستہ ہو چکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مردان شہر میں گزشتہ تیرہ سالوں سے صحت کے متعدد بڑے بڑے منصوبے حکومتی عدم توجہی اور بیوروکریٹک سستی کے باعث تکمیل کی راہ تک رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات اور جدید مشینری ناپید ہو چکی ہے، جبکہ ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل سٹاف اور تکنیکی عملے کی شدید کمی نے مریضوں کو مصلوب کر رکھا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہاں کے شفاخانے خود بیمار اور قابلِ علاج ہو چکے ہیں اور یہ شعبہ حقیقتاً لاوارث دکھائی دیتا ہے۔
سیکرٹری ہیلتھ کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے منصوبے کی تکمیل اب ایک خواب بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔ اب تو لوگوں کا ماننا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کسی نجومی سے فال نکالنا ہوگی۔ ڈی ایچ کیو میں گزشتہ دس سالوں سے ڈسٹرکٹ انیستھیزیا سپیشلسٹ ہی موجود نہیں، جبکہ چیف ریڈیالوجسٹ، پیتھالوجسٹ، ڈسٹرکٹ آرتھوپیڈک اور سائیکاٹرسٹ کی اہم ترین سیٹیں خالی پڑی ہیں۔ 28 سال قبل آئی (Eye)، ای این ٹی (ENT) اور کارڈیالوجی جیسے اہم شعبے ایم ایم سی (MMC) منتقل کیے جا چکے ہیں، مگر ایم ٹی آئی بننے کے بعد یہ سیٹیں اب تک خالی ہیں اور اس حوالے سے این او سی (کی فائلیں محکمہ صحت کی میزوں پر دیمک کی خوراک بن رہی ہیں؛ حالانکہ ان شعبوں کی ڈی ایچ کیو کو اشد ضرورت ہے۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال کی سی ٹی اسکین مشین عرصے سے خراب ہے اور ایکسرے مشین کی حالت خود اپنے ایکسرے کی متقاضی ہے۔
انتظامی معاملات کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ایم ایم سی ہسپتال ایک ٹیچنگ ہسپتال ہے اور اس پر مردان کے علاوہ بالائی اور وسطی اضلاع کے مریضوں کا بھی بوجھ ہے۔ اس ہسپتال کے فیز تھری منصوبے کا پی سی ون تیار پڑا ہے، اگر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے تو صحت کی 35 کے لگ بھگ سپر سپیشلٹیز شہریوں کو دستیاب ہو جائیں گی۔
ہسپتال کی کیتھ لیب کا احوال بڑا دلچسپ ہے۔ ایک سال قبل کیتھ لیب کا منصوبہ ایک پرانی مشین کی تنصیب سے شروع کیا گیا اور لگانے والوں نے یہ دلاسہ دیا کہ جلد نئی مشین فراہم کر دی جائے گی، لیکن ایک سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کیتھ لیب کا حال ‘دھکا اسٹارٹ گاڑی’ جیسا ہی رہا۔ اس منصوبے کی مکمل انکوائری کی ضرورت ہے کہ شہری کیوں اس اہم سہولت سے تاحال محروم ہیں۔ ایم ایم سی کی ایم آر آئی مشین سال میں تین مرتبہ خراب ہوتی ہے، جس کی اعلیٰ سطح پر انکوائری اور جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔
مردان میں برن سینٹر کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ بینظیر شہید چلڈرن ہسپتال (جو فی الوقت محض ایک وارڈ کے طور پر کام کر رہا ہے) طویل عرصے سے تکمیل کی راہ تک رہا ہے۔ اس ہسپتال کی سی این ای (CNE) کی منظوری نہ صرف یہاں کے شہریوں بلکہ پورے صوبے کے عوام پر احسان ہوگی۔ ضلع بھر کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں اور بنیادی صحت کے مراکز (بی ایچ یوز) کی حالتِ زار اتنی ابتر ہے کہ فیاض علی شاہ صاحب سے بہتر اس کا ادراک کوئی نہیں رکھ سکتا۔ تخت بھائی سے کارڈیالوجی پی آئی سی (PIC) سیٹلائٹ یونٹ کی منظوری اور حال ہی میں اس کی مردان منتقلی کا معاملہ بھی یقیناً ان کے زیرِ غور ہونا چاہیے اور یہ پورا معاملہ ایک مکمل جانچ کا متقاضی ہے۔
فیاض علی شاہ صاحب اس وقت ایک ایسی پوزیشن میں ہیں کہ وہ اپنے آبائی شہر مردان کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ مردان میں میڈیکل یونیورسٹی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ میڈیکل یونیورسٹی کے منصوبے کے لیے نہ صرف زیادہ تر لوازمات پہلے سے پورے ہیں بلکہ اراضی بھی دستیاب ہے، ضرورت صرف ایک مضبوط ارادے کی ہے۔
سیکرٹری ہیلتھ صاحب! آپ ایک اعلیٰ سرکاری افسر ہونے سے پہلے اس مٹی کے سپوت ہیں۔ یہاں کے منتخب عوامی اراکین سے اب یہ توقع کم ہی رہ گئی ہے کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور مردان میں صحت کے ان منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھائیں، لیکن آپ سے وابستہ توقعات ہرگز موہوم نہیں ہوئیں۔ آپ اپنی انتظامی مہارت اور ملنسار طبیعت کی بدولت چائے کی میز پر یہاں کے تمام منتخب اراکینِ اسمبلی کو اکٹھا کرنے اور اس شہر کے لیے ایک جامع پلان تیار کر کے وزیراعلیٰ سے منظور کروانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
مردان کے عوام کی نظریں اب صرف آپ پر مرکوز ہیں، کیونکہ عوام بخوبی جان چکے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں اور عوامی مفاد کے منصوبے صرف ان کی تقریروں اور اجلاسوں کی صدارتوں تک محدود ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال میں ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان اور ڈی ایچ او (DHO) کی پوسٹوں پر بھی نظرِ ثانی کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ ان افسران کی کارکردگی صرف ٹھنڈے دفاتر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی محکمے کے سیکرٹری کے قلم میں خدا نے بڑی طاقت رکھی ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ فیاض علی شاہ صاحب کا قلم انتظامی امور کے لحاظ سے جتنا قیمتی اور بااثر ہے، عوامی فلاح کے معاملے میں اتنا ہی سخی بھی ہے۔ کالم کے آخر میں ایک مخلصانہ مشورہ اور التجا یہ ہے کہ ہفتے میں ایک دن جب آپ اپنے آبائی شہر تشریف لائیں، تو صحت کے کسی بھی مرکز کا اچانک اور بغیر پروٹوکول کے دورہ ضرور کیا کریں۔ اس سرپرائز وزٹ سے آپ کو نہ صرف ہسپتالوں کی اصل حالتِ زار معلوم ہوگی بلکہ عوامی مسائل کا حقیقی چہرہ بھی سامنے آ سکے.







