صوبائی دارالحکومت پشاور میں سٹریٹ کرائمز، رہزنی، لوٹ مار، موبائل فون اور موٹر سائیکل سنیچنگ، منشیات خصوصا آئس کی خرید و فروخت، غیر قانونی اسلحہ اور ڈانسنگ گولیوں کی دستیابی جیسے مسائل پر شہریوں کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔مختلف سماجی حلقوں، تاجروں اور شہری تنظیموں کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے باوجود شہر کے بعض علاقوں میں عوام اب بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔شہریوں کے مطابق پشاور کے مصروف تجارتی مراکز، مارکیٹوں، بس اڈوں اور مضافاتی علاقوں میں اسلحے کے زور پر لوٹ مار، نقدی اور موبائل فون چھیننے، موٹر سائیکل چوری اور سنیچنگ کے واقعات وقفے وقفے سے سامنے آتے رہتے ہیں، جس کے باعث کاروباری برادری، طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور خواتین میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شام اور رات کے اوقات میں پولیس گشت میں مزید اضافہ کیا جائے اور حساس مقامات پر مثر نگرانی کے انتظامات کیے جائیں تاکہ جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب منشیات، خصوصا آئس کے بڑھتے ہوئے استعمال پر والدین اور سماجی کارکنوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ زہر نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے اطراف، پوش علاقوں اور گنجان آباد آبادیوں میں بھی منشیات فروش مختلف طریقوں سے اپنا نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔شہریوں اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروشوں، اسٹریٹ کرائم میں ملوث عناصر اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف مسلسل انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں اور شہر میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے موثر اور دیرپا اقدامات اٹھائے جائیں۔







