تحریک جوانان پاکستان کے صوبائی صدر اکرام الدین نے خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل میں مکمل ناکام ہو چکی ہے اور عملی اقدامات کے بجائے دھرنوں، جلسوں اور جلوسوں کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے، جس کے باعث عام شہری کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں مہنگائی، بے روزگاری، امن و امان کی ابتر صورتحال اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عوام کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس پر مستزاد حالیہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی عوام پر ایک بھاری معاشی بوجھ بن کر سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی تمام ضروریات کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال عام آدمی کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر رہی ہے اور زندگی مزید دشوار ہوتی جا رہی ہے۔اکرام الدین نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ عوامی فلاح و بہبود کے بجائے سیاسی کشمکش اور احتجاجی سیاست پر مرکوز ہے، جس کا براہ راست نقصان غریب اور متوسط طبقے کو ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ جلسوں اور دھرنوں کی سیاست سے نکل کر فوری طور پر عوامی ریلیف کے عملی اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل محض نعروں اور تقاریر سے حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے سنجیدہ پالیسی سازی، مثر انتظامی فیصلے اور زمینی حقائق کے مطابق حکمت عملی ناگزیر ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں فوری ریلیف پیکج اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔اکرام الدین نے وفاقی حکومت اور قومی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے مشکل معاشی حالات کے باوجود ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے جرات مندانہ اور عملی فیصلے کیے ہیں۔ ان کے مطابق معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے اقدامات نے ملک کو بڑے مالی بحرانوں سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے خاص طور پر پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں قومی سلامتی، داخلی استحکام اور دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف عسکری محاذ پر غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کیا بلکہ قومی وحدت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور استحکام کو بھی مضبوط بنایا، جس کے مثبت اثرات پورے ملک پر مرتب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاریخی معرکہ حق پاکستان کی قومی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے جس نے اتحاد، قربانی اور عزم کی نئی مثال قائم کی۔ ان کے مطابق اس معرکے کے ایک سال مکمل ہونے پر پوری قوم کو اس کامیابی اور اس میں کردار ادا کرنے والی قیادت، خصوصا فیلڈ مارشل عاصم منیر، کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔آخر میں اکرام الدین نے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ اگر صوبائی حکومت نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو مہنگائی اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، جس کی ذمہ داری مکمل طور پر موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی مفاد کو ہر قسم کے ذاتی اور جماعتی مفادات پر فوقیت دینا ہی ملک کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھ سکتا ہے۔







