سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خیبر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 22دہشت گردو ں کو ہلاک کردیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن 21 اپریل کو کیا گیا تھا جس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 22 خوارج مارے گئے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے خوف اور بزدلی کے باعث خوارج نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی زد میں آکر ایک 10سالہ معصوم بچہ شہید ہوگیا۔ خوارج علاقے میں متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود مزید کسی بھی خارجی کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ضلع خیبر میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پزیرائی کی ہے۔ اپنے بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے 22 خارجیوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی جبکہ دہشت گردوں کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں دس سالہ بچے کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا بھی اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، بزدل دہشت گردوں کا اپنے بچا کیلئے بلا اشتعال فائرنگ سے بچے کو شہید کرنا انسانیت کے خلاف ناقابل تلافی جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے غیر متزلزل عزم میں مجھ سمیت پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے 22 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا۔محسن نقوی نے کہا کہ کامیاب کارروائی پر بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، قانون نافذ کرنے والے ادارے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، قوم کو فورسز کے دلیر سپوتوں پر ناز ہے۔ انشا اللہ قوم کی حمایت سے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے دہشتگردوں کی فائرنگ سے جام شہادت نوش کرنے والے 10 سالہ بچے کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا بھی اظہار کیا۔







