پشاور سے عالمی کھیلوں کے میدان تک میاں ابصار علی کا سفر
بین الاقوامی کوچنگ، کھلاڑیوں کی تربیت اور جامع کھیلوں کے فروغ میں نمایاں خدمات
تحریر: عاصم شیراز
میاں ابصار علی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ٹیبل ٹینس کوچ، کھلاڑیوں کی تربیت و ترقی کے ماہر اور کھیلوں کے شعبے میں سرگرم رہنما ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی کوچنگ، پیرا اسپورٹس اور کھیلوں میں شمولیت و مساوی مواقع کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
ان کا بین الاقوامی سفر 2014 میں شروع ہوا، جب انہیں 14 بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ایک گروپ میں سے واحد منتخب شریک کے طور پر چین کی شنگھائی یونیورسٹی آف اسپورٹ میں تربیتی و تبادلہ پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ 2015 میں انہوں نے امریکا کی ریاست نارتھ کیرولائنا کے شہر مورس ول میں واقع ٹرائی اینگل ٹیبل ٹینس کلب میں تربیت اور تبادلہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنے کوچنگ تجربے کو مزید وسعت دی۔
2016 سے 2018 کے دوران انہوں نے کوچنگ کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ پاکستان میں منعقدہ ساو¿تھ ایشین کیڈٹ اینڈ جونیئر ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں تکنیکی آفیشل اور اسسٹنٹ کوچ کے طور پر بھی تجربہ حاصل کیا۔ 2018 میں انہوں نے عمان آپٹیکل فائبر ٹیبل ٹینس انٹرنیشنل چیمپئن شپ میں حصہ لیا اور ٹاپ 64 کھلاڑیوں میں جگہ بنائی۔ اسی سال انہوں نے واجیرا وکرما سنگھے کی زیر نگرانی انٹرنیشنل ٹیبل ٹینس فیڈریشن (ITTF) کا لیول ون کوچنگ کورس مکمل کیا۔ انہیں نمایاں کھلاڑی اور ابھرتے ہوئے کوچ کی حیثیت سے بھی سراہا گیا۔
محض 21 سال کی عمر میں، 2018 میں، میاں ابصار علی نے *ابصار ویلفیئر فاو¿نڈیشن (AWF)* کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا مقصد خواتین، بچیوں اور معذور افراد کو کھیلوں کے ذریعے بااختیار بنانا، مساوی مواقع فراہم کرنا اور معاشرتی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔
2019 میں انہیں ٹوکیو 2020 پیرالمپک تحریک کے سلسلے میں قومی ٹیم کے کوچ کے طور پر منتخب کیا گیا۔ اسی دوران انہوں نے چین کے شہر ڑینگ ڈنگ میں واقع نیشنل ٹیبل ٹینس ٹریننگ بیس میں خصوصی تربیت حاصل کی، جہاں کھلاڑی زینب برکت بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ 2020 میں انہوں نے سری لنکا میں ہائی پرفارمنس کوچنگ کیمپ میں شرکت کی اور پاکستان ٹیگ بال فیڈریشن کے بانی صدر بھی بنے۔
2023 میں میاں ابصار علی نے ایک منٹ میں 165 فورہینڈ ڈرائیوز لگا کر پاکستان بک آف ریکارڈز میں جگہ بنائی۔ اسی سال انہوں نے بین الاقوامی ماہر اور کورس کنڈکٹر رمزی بی ایچ مبروک کی زیر نگرانی *ITTF لیول ٹو اسٹار کوچنگ سرٹیفکیشن* بھی حاصل کی۔ علاوہ ازیں، انہوں نے ورلڈ ٹیگ بال چیمپئن شپ میں پاکستان کے قومی دستے کے کوچ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
2024 میں انہیں کوچنگ میں نمایاں کارکردگی پر ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے تعاون سے جاری *گلوبل اسپورٹس مینٹورنگ پروگرام (GSMP)* کے لیے بھی منتخب کیا گیا۔ ان کے پروفائل کے مطابق، وہ 20 سے زائد بین الاقوامی سطح کے اور 40 قومی سطح کے کھلاڑیوں کی تربیت و ترقی میں کردار ادا کر چکے ہیں۔
2025 میں انہوں نے بحرین میں منعقدہ ایشین یوتھ گیمز میں پاکستان کی ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں۔ اسی سال وہ ورلڈ ٹیبل ٹینس ڈے کے لیے پروموٹر منتخب ہونے والے پہلے پاکستانی بنے۔ اس اعزاز نے ٹیبل ٹینس کے فروغ اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اس کھیل کی جانب راغب کرنے کے لیے ان کی کوششوں کو مزید نمایاں کیا۔
2026 میں بھی میاں ابصار علی قومی پیرا ٹیبل ٹینس کوچ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی توجہ کھلاڑیوں کی تکنیکی صلاحیتوں میں بہتری، کارکردگی کے تجزیے، مقابلوں کی تیاری اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت پر مرکوز ہے۔
ان کا کوچنگ کا طریق کار جدید تکنیکوں، سائنسی تربیتی طریقوں اور ہر کھلاڑی کی انفرادی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیے گئے تربیتی منصوبوں پر مبنی ہے۔ فٹ ورک، سروس اور ریسیو، شاٹس کے درست انتخاب، حکمت عملی کی تیاری اور تکنیکی مہارتوں میں بہتری ان کی تربیت کے اہم پہلو ہیں۔ کھیلوں میں کامیابی کے ساتھ ساتھ وہ کھلاڑیوں میں خود اعتمادی، زندگی کی عملی مہارتوں، سماجی شمولیت اور مساوی مواقع کے فروغ کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔
*پشاور سے عالمی کھیلوں کے میدان تک میاں ابصار علی کا سفر* کوچنگ میں مہارت، کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور کھیلوں کے ذریعے مثبت سماجی تبدیلی لانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا طویل المدتی ہدف پاکستان میں کوچنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانا، نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں کے لیے تیار کرنا اور خواتین، بچیوں اور معذور افراد کے لیے کھیلوں کے مواقع کو وسعت دینا ہے









