پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پارٹی کی مزاحمتی سیاست نے اسے نقصان پہنچایا، اب عملی سیاست کی طرف آنا ہوگا۔اپنے ویڈیو پیغام میں شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کارکن 11اکتوبر کو بھی لائحہ عمل کے منتظر رہے، لیکن انہیں واضح حکمت عملی نہیں دی گئی۔انہوں نے دعوی کیا کہ 11اکتوبر کے بعد پارٹی کارکنوں کے خلاف کریک ڈائون اور گرفتاریاں جاری ہیں، جبکہ قیادت کی جانب سے تاحال کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔ان کے مطابق کارکن تذبذب کا شکار ہیں اور جن رہنمائوں نے منصوبہ دینا تھا، وہ خود سامنے نہیں آئے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وہ پہلے ہی مشورہ دے چکے تھے کہ لانگ مارچ مخر کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو موجودہ صورت حال سے نکالنے کے لیے عملی سیاست کی طرف واپس آنا ہوگا اور اداروں کے ساتھ لڑائی کا تاثر ختم کرنا چاہیے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی کی اولین ترجیح عمران خان کے لیے ریلیف حاصل کرنا ہونی چاہیے،غلط حکمت عملی کی وجہ سے عمران خان تین سال سے جیل میں ہیں۔انہوں نے بیرسٹر گوہر کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو موجودہ سیاسی صورت حال سے نکالنے کے لیے بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، عاطف خان اور علی محمد خان کو آگے آنا ہوگا۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجی اور پولیس اہلکار قابلِ فخر ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ اداروں کے ساتھ تصادم کا تاثر ختم کرکے سیاسی معاملات کو مذاکرات اور عملی حکمت عملی کے ذریعے آگے بڑھایا جائے







