صنعتکار رہنما حاجی افتخار احمد نے ڈپٹی کمشنر ہری پور کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے صنعتی و کاروباری معاملات میں غیر ضروری مداخلت قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ کمیٹی کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے۔حاجی افتخار احمد، بانی انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن ضلع ایبٹ آباد اور ایبٹ آباد چیمبر آف کامرس کے بانیوں میں شامل ہیں وہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر بھی رہ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ صنعتی برادری مذکورہ کمیٹی کی تشکیل کی بھرپور مخالفت کرتی ہے انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں ایبٹ آباد اور حطار انڈسٹریل زون سے تعلق رکھنے والے صنعتکار شامل ہیں، تاہم کاروباری برادری کو اس کے کردار اور صنعتی سرگرمیوں پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے سنجیدہ خدشات ہیں حاجی افتخار احمد نے خبردار کیا کہ کمیٹی کو وسیع اختیارات حاصل ہونے کی صورت میں جائز کاروباری معاملات میں مداخلت اور صنعتکاروں پر غیر ضروری دبا پیدا ہوسکتا ہے انہوں نے سیاسی اثر و رسوخ کے امکانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ماضی میں مقامی انتظامیہ صنعتی مسائل کے حل میں مثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے انہوں نے کہا کہ صنعتکار قانون پسند شہری ہیں، جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو خطیر ٹیکس بھی ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صنعتی ادارے پہلے ہی متعدد سرکاری و ریگولیٹری اداروں کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں تو ایک اور خصوصی کمیٹی کے قیام کی ضرورت سمجھ سے بالاتر ہے وفاقی اور صوبائی سطح پر 32 سے زائد سرکاری و ریگولیٹری ادارے صنعتی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں جبکہ صنعتکار پہلے ہی تمام متعلقہ قوانین اور ضوابط کی پابندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے جائز تجارتی فیصلے کرنے کی آزادی بھی حاصل ہونی چاہیے۔حاجی افتخار احمد نے کہا کہ صنعتی شعبہ پہلے ہی شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی کے بھاری بل، طویل لوڈشیڈنگ اور زیادہ ٹیکسز نے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کردیا ہے، جس کے باعث صنعتی پیداوار میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے جو کارخانے ماضی میں مکمل استعداد کے ساتھ چل رہے تھے، ان میں سے متعدد اب صرف ایک شفٹ میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ صنعتی پیداوار میں کمی کے اثرات برآمدات اور روزگار پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث بعض کاروباری ادارے افرادی قوت میں کمی کر رہے ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صنعتی شعبے پر انتظامی دبا مزید بڑھا تو بعض فیکٹریاں بند ہونے پر مجبور ہوسکتی ہیں، جس سے صوبے میں مزید بے روزگاری اور معاشی و سماجی مسائل جنم لے سکتے ہیں حاجی افتخار احمد نے کہا کہ صنعتکار ملکی قوانین کی پابندی کے ساتھ قومی خزانے میں اربوں روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جبکہ کارکنوں کی سوشل سکیورٹی اور فلاحی فنڈز میں بھی ہر ماہ کروڑوں روپے جمع کرائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ صنعتی شعبے کا تحفظ اور اسے سازگار ماحول فراہم کرنا ملکی معیشت کے مفاد میں ہے۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ ہری پور سے مطالبہ کیا کہ صنعتکاروں میں پائی جانے والی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کا فوری خاتمہ کیا جائے اور مذکورہ کمیٹی کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے۔حاجی افتخار احمد نے کہا کہ صنعت و تجارت کے لیے سازگار اور پرامن ماحول ہی روزگار، برآمدات اور معاشی ترقی کے فروغ کا ضامن ہے، اس لیے صنعتی معاملات میں غیر ضروری انتظامی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے۔







