امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا وینزویلا کی طرح ایران میں موجود رہ سکتا ہے اور تیل اپنے قبضے میں رکھ سکتا ہے جبکہ انہوں نے یوکرین سے روسی آئل ریفائنریز پر حملے نہ کرنے کی اپیل کی ہے ۔آئرلینڈ کے دورے اور گالف میچ دیکھنے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا انہیں توقع ہے کہ ایران جنگ رواں برس ختم ہو جائے گی اور ایسا ممکنہ طور پر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فورا بعد ہو سکتا ہے۔مشرق وسطی میں جاری جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈیاں شدید متاثرہوئی ہیں جبکہ سعودی تیل پائپ لائن پر حملے کے بعد تیل کے تاجروں کا کہنا ہے کہ پیر قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ صرف درست معاہدہ کریں گے اور ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جو اچھا نہ ہو، ایران امن مذاکرات کے لیے مسلسل رابطے کر رہا ہے تاہم تہران ماضی میں ہونے والے ایسے دعوئہ ں کو مسترد کرتا رہا ہے۔امریکی صدر نے ایک تجویز پیش کی کہ ایران کے ساتھ معاملات جاری رکھے جا سکتے ہیں اور اس کا موازنہ وینزویلا کے ساتھ اگست میں ہونے والے اس معاہدے سے کیا جو وہاں تیل کی پیداوار سے متعلق تھا۔صدر ٹرمپ نے کہا بالآخر ہم ایران سے نکل جائیں گے جب تک ہم وہاں رہنے اور وینزویلا کی طرح تیل اپنے قبضے میں رکھنے کا فیصلہ نہ کر لیں، وینزویلا سے حاصل آمدنی نے جنگ کے کئی گنا اخراجات پورے کر دیے ہیں۔دریں اثنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے کہا ہے کہ وہ روسی ڈیزل ریفائنریوں پر حملے بند کر دیں کیونکہ حملے تیل کی زیادہ قیمتوں میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔آئرلینڈ سے واشنگٹن ڈی سی واپس آتے ہوئے ایئر فورس ون میں سوار صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ روسی ایندھن کی پیداوار میں رکاوٹ عالمی سپلائی کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یوکرین اور روس کے ساتھ جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ بہت زیادہ ڈیزل روس سے آتا ہے اور روسی پلانٹس یوکرین سے متاثر ہو رہے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ میں نے صدر زیلنسکی سے کہا ہے کہ وہ ڈیزل پلانٹس، ریفائنریوں کو نشانہ نہ بنائیں۔ٹرمپ نے کہا کہ روسی ڈیزل کو مارکیٹ میں لانے میں مشکلات کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اسے روس سے باہر آنے میں مشکل پیش آرہی ہے، اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس نے دنیا کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہمیں روکنا ہوگا۔







