پشاور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ولی محمد خان نے 9 اور 10 مئی 2023 کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے، توڑ پھوڑ اور نذرِ آتش کرنے سے متعلق کیس کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔ سماعت میں تاخیر کی بنیادی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سپیشل پراسیکیوٹر کی عدم پیشی بنی، جس پر عدالت نے تمام فریقین کو اگلی سماعت پر لازمی پیش ہو کر دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔سماعت کے دوران ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی، ملزمان کے وکلاء علی زمان اور انعام یوسفزئی، نیز تفتیشی افسر خوشحال خان عدالت میں حاضر ہوئے۔ سپیشل پراسیکیوٹر نعمان الحق کاکاخیل کے جونیئر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے سینئر ہائیکورٹ میں مصروفیت کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکتے، لہٰذا سماعت ملتوی کی جائے- اس پر ریڈیو پاکستان کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیس میں بلاوجہ تاخیر کی جا رہی ہے اور سپیشل پراسیکیوٹر کو آئندہ تاریخ پر حاضری کا پابند بنایا جائے۔دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کیس کی رپورٹ بمع پنجاب فرانزک لیبارٹری اور نادرا کی رپورٹس جمع کرائی جا چکی ہے۔ دریں اثناء کچھ ملزمان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265 کے تحت بریت کی درخواستیں دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ استغاثہ کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، جس پر عدالت نے پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کر دیے۔ واضح رہے کہ اس مقدمے میں خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر مینا خان، اراکینِ اسمبلی آصف خان اور فضل الٰہی سمیت دیگر افراد نامزد ہیں، جبکہ 9 ملزمان اب بھی مفرور ہیں۔







