تحصیل گمبٹ کے علاقے درب کچ میں دریائے سندھ کے کنارے سونے کی مبینہ غیر قانونی کان کنی کے معاملے پر دو گروہوں میں خونریز تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ چار دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ وزیروسام کے قریبی علاقے میں پیش آیا جہاں مقامی اور غیر مقامی افراد کے درمیان تلخ کلامی نے بعد میں مسلح جھڑپ کی شکل اختیار کر لی۔ واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت قلندر شاہ، یاسر، عمیر اور کاشف کے ناموں سے ہوئی ہے، جبکہ زخمیوں میں شاکراللہ، ارمان اللہ، محمد نبی اور سرائے نورنگ سے تعلق رکھنے والا ایک راہگیر محمد امیر شامل ہیں۔اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشوں اور زخمیوں کو بنیادی مرکز صحت گمبٹ منتقل کیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ فائرنگ کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے-دوسری جانب تحصیل لاچی کے علاقے شکردرہ اور رحمن میں سونے کی غیر قانونی کان کنی کے خلاف انتظامیہ کے آپریشن سے واپسی پر ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کی گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ اور پتھراؤ کیا گیا، جس سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم تمام افسران محفوظ رہے۔ اسسٹنٹ کمشنر لاچی کی مدعیت میں تھانہ شکردرہ میں 30 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ڈپٹی کمشنر کوہاٹ نے آپریشن کے دوران پولیس نفری کی عدم فراہمی اور مقامی ایس ایچ او کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ واقعے کی اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔







