امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ شرح سود میں کم از کم 3 فیصد کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کرے، بصورت دیگر اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی، جماعت اسلامی مستقل مزاجی سے قوم کا مقدمہ لڑ رہی ہے، کارکن اور اسپورٹرز تمام تر حالات میں ڈٹے ہوئے ہیں، اسلام آباد جا رہے ہیں اور صرف ہاتھ لگا کر واپس نہیں آئیں گے۔لاہور میں دھرنے کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ ہے اور حکومت کی جانب سے دیا گیا ریلیف پیکیج خوش آئند تاہم ناکافی ہے۔ ملک بھر میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کی تعداد 40 ہوگئی ہے اور احتجاج کا 30 واں روز ہے۔ دھرنے اب ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کرچکے ہیں، جن میں خواتین سمیت عوام کی شرکت روز بروز بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے مزید ایک دن کا وقت مانگا ہے، مذاکرات آج ہوں یا کل، جماعت اسلامی کا واضح مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔ حکومت کا یہ کہنا کہ لیوی ختم کرنے کی صورت میں اخراجات کیسے پورے ہوں گے، قابل قبول جواب نہیں، کیونکہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم لیوی کے متبادل سمیت 6 تجاویز حکومت کو دے چکی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے ریلیف پیکیج کے لیے 500 ارب روپے کی بچت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم مہنگائی کے موجودہ حالات میں فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف بھی ناکافی ہے۔ ریلیف پیکیج سے زیادہ ضروری لیوی کا خاتمہ ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے اور حکومت سے مذاکرات بھی ساتھ ساتھ ہوں گے۔ 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی تیاریاں مکمل ہیں، جماعت اسلامی اسلام آباد پہنچ کر صرف احتجاج کرکے واپس نہیں آئے گی بلکہ عوام کو ریلیف دلانے کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔انہوںنے کہا جماعت اسلامی کی تحریک ملک بھر میں جاری ہے اور کارکن مشکل حالات کے باوجود اپنے مطالبات کے لئے ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مالاکنڈ، چترال اور بلوچستان میں بھی بدترین حالات کے باوجود دھرنے جاری ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کارکن اپنے موقف پر ثابت قدم ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب بڑھ رہی ہے اور وہاں صرف رسمی طور پر پہنچ کر واپس نہیں آئے گی بلکہ اپنے مطالبات کے حصول تک جدوجہد جاری رکھے گی ۔جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے تاہم کارکن گرفتاریوں اور قربانیوں کے لیے تیار ہیں۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کو عوامی مسائل پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو آئینی و قانونی طور پر احتجاج کا حق ملنا چاہیے۔شرح سود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کم از کم 3 فیصد کمی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ موقف درست نہیں کہ شرح سود کم ہونے سے مہنگائی بڑھے گی۔ سود مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا اور شرح سود میں 3 فیصد کمی سے حکومت کو تقریبا 1700 ارب روپے کی لیوی کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا موجودہ نظام حکومتوں نے بنایا، جماعت اسلامی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر اور ارکان کی تقرری حکومت ہی کرتی ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر خودمختار قرار دے کر عوامی مطالبات سے بچا نہیں جا سکتا۔آئل سیکٹر کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مقامی اور درآمدی تیل کی قیمتیں برابر کرکے قوم کو دھوکا دیا گیا، جبکہ ریفائنریوں میں بھی بے ضابطگیوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کی نادہندہ بائیکو ریفائنری کو کیوں سپورٹ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی دونوں کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے دھرنوں کی حمایت کی ہے، جبکہ مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی جماعت اسلامی کی تحریک کی حمایت سامنے آرہی ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے گورنر بھی منصورہ آئے اور بعد ازاں پشاور میں جاری دھرنے میں شریک ہوئے۔ سندھ اسمبلی میں بھی جماعت اسلامی کے مطالبات کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ممکن ہے آئندہ چند دنوں میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملاقات ہوجائے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق پیپلز پارٹی بھی جماعت اسلامی کے دھرنوں کی حمایت کر رہی ہے۔







