بارباڈوز میں تقریبا دو دہائیوں بعد دنیا کا سب سے چھوٹا سانپ دوبارہ دریافت کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا تھا کہ یہ سانپ سائنسی دنیا سے کہیں گم ہو چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس چھوٹے سانپ کی دریافت ایک ماحولیاتی سروے کے دوران وسطی بارباڈوز کے علاقے میں ایک چٹان کے نیچے ہوئی۔وزارت ماحولیات کے پروجیکٹ آفیسر کونر بلیڈز نے اس دریافت میں حصہ لیا، جن کا کہنا تھا کہ بارباڈوز تھریڈ اسنیک ایک نابینا سانپ ہے، اس لیے یہ بہت چھپنے والا جانور ہے۔ یہ کافی نایاب بھی لگتا ہے۔ 1889 سے اب تک اس کی تصدیق شدہ چند ہی مشاہدات ہوئے ہیں، اس لیے بہت سے لوگ اسے کبھی دیکھ نہیں پائے۔یہ سانپ مکمل طور پر بڑا ہونے پر صرف تین سے چار انچ لمبا ہوتا ہے اور یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ تقریبا ایک سکے پر سما سکتا ہے۔یہ ننھا سانپ جو ایک کیڑے کے ساتھ پایا گیا، مزید تحقیق کے لیے ویسٹ انڈیز یونیورسٹی لے جایا گیا، جہاں خوردبین سے اس کا جائزہ لیا گیا۔ چونکہ یہ سانپ ایک دوسرے جاندار براہمنی بلائنڈ اسنیک سے مشابہت رکھتا ہے، جو ایک غیرمقامی جارح نسل ہے، اس لیے شناخت کی توثیق ضروری تھی۔ جائزے کے بعد سانپ کو واپس جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔







