خالصتان حامی تنظیم سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارت اور وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف سخت بیانات دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت صرف ایک جہنم نہیں بلکہ نسل کشی سے بھرا ہوا جہنم ہے جہاں سکھ برادری کو دہائیوں سے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔پنوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو "جہنم کا گڑھا قرار دینا درست تھا۔ ان کے مطابق بھارت میں مختلف حکومتوں کے ادوار میں سکھوں کے خلاف مبینہ نسل کشی کی گئی جبکہ موجودہ مودی حکومت کے تحت سکھوں کو معاشی تباہی اور نسلی صفائی جیسے اقدامات کا سامنا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ خالصتان کے حامی سکھ پنجاب کو بھارتی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے عالمی ریفرنڈم مہم چلا رہے ہیں۔ پنوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا میں موجود بعض ہندو قوم پرست حلقے مبینہ طور پر امریکا مخالف مہم چلا رہے ہیں، جس پر انہوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارتی نژاد امریکی ہندوں کے لیے امریکن وفادری ٹیسٹ متعارف کرایا جائے۔







