یورپ میں معاشی بحران، اٹلی سب سے زیادہ مقروض ملک بننے کے قریب

قرضوں کی دوڑ میں اٹلی یونان سے آگے نکلنے کو تیار ہے جبکہ یونان اب اپنے قرضوں میں نمایاں کمی لا چکا ہے۔غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق یورپی یونین کے ممالک میں معاشی صورتِ حال ایک بڑی تبدیلی کی طرف گامزن ہے جہاں اس سال کے اختتام تک اٹلی ممکنہ طور پر یورو زون کا سب سے زیادہ مقروض ملک بن جائے گا۔اس کے ساتھ ہی یونان اس فہرست میں اپنی طویل عرصے سے قائم پہلی پوزیشن سے نکل جائے گا۔ یہ پیش رفت اٹلی کے حالیہ بجٹ منصوبے اور متعلقہ حکام کے اندازوں کے بعد سامنے آئی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یونان کا مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں قرض اس سال کم ہو کر تقریبا 137 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو 2025 میں 145.9 فیصد تھا۔ اس کے برعکس اٹلی کا قرض 2026 میں بڑھ کر 138.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 2025 میں 137.1 فیصد تھا۔ اس طرح اٹلی قرض کے تناسب میں یونان سے آگے نکل جائے گا۔یونانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی مالی حالت میں بہتری آ رہی ہے اور نئی شرحیں جلد ہی یورپی کمیشن کو پیش کیے جانے والے مالیاتی منصوبے کا حصہ ہوں گی۔ دوسری جانب اٹلی کے بجٹ منصوبے کے مطابق اس کا قرض آئندہ چند برسوں میں بتدریج کم ہو سکتا ہے، تاہم قریبی مدت میں اس میں استحکام ہی متوقع ہے۔گزشتہ دو دہائیوں تک یوروزون کا سب سے زیادہ مقروض ملک رہنے والا یونان اب اپنے قرضوں میں نمایاں کمی لا چکا ہے۔ 2020 میں اس کا قرض جی ڈی پی کے 209.4 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھا، جو اب کم ہو کر گزشتہ سال 145.9 فیصد تک آ گیا ہے۔ اس کمی کی بڑی وجہ مالیاتی اصلاحات اور معاشی بحالی ہے۔یونان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پہلے بیل آٹ پیکج کے تحت لیے گئے تقریبا 7 ارب یورو کے قرضے قبل از وقت واپس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔دوسری طرف اٹلی نے بھی اپنے قرضوں میں کچھ کمی کی ہے، مگر اس کی رفتار نسبتا سست رہی ہے۔ وزیر اعظم جورجیا میلونی کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے تعمیراتی شعبے میں دی گئی مراعات نے مالی دبا ئومیں اضافہ کیا، جس کی وجہ سے قرضوں میں کمی کی رفتار متاثر ہوئی۔معاشی کارکردگی کے لحاظ سے بھی دونوں ممالک کے درمیان فرق واضح ہے۔ یونان کی معیشت گزشتہ تین برسوں میں دو فیصد سے زائد کی رفتار سے بڑھی ہے، جس میں سرمایہ کاری، مقامی طلب اور سیاحت نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس اٹلی کی معیشت نسبتا سست رہی ہے اور 2023 سے 2025 تک اس کی شرح نمو ایک فیصد سے بھی کم رہی، حالانکہ اسے یورپی یونین کے وبا کے بعد بحالی فنڈز سے خاطر خواہ مالی مدد ملی۔ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی یوروزون کی معاشی سمت میں ایک اہم اشارہ ہے، جہاں ایک طرف یونان مالی بحران کے بعد استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، تو دوسری طرف اٹلی کو سست معاشی ترقی اور بلند قرضوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed