خیبرپختونخوا میں صنعتکار یرغمال

امجد عزیز ملک

پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کیلئے سہولتیں فراہم کرنے اور سرمایہ کاروں کو سبز باغ دکھانے والے ون ونڈوآپریشن کی بجائے مقامی صنعت کاروں کے ہی مسائل حل نہیں ہوپا رہے ۔انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ نے مقامی تاجروں اور صنعت کاروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے فرمز کی رجسٹریشن کے بعد فوٹو کاپیاں تصدیق کرنے کا مرحلہ بھی دشوار ترین بنا دیا گیا ہے اور محکمہ کے ملازمین کے ہاتھوں صنعتکار یرغمال بن گئے ہیں۔صوبے بھر میں سرمایہ کاری کرنے والے انتہائی ناگفتہ بہ حالات اور مسائل کی وجہ سے خیبر پختونخوا کی بجائے پنجاب اور سندھ میں کارخانے لگانے کو ترجیح دینے لگے ہیں ۔ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ خیبر پختونخوا میں ون ونڈو آپریشن کا خواب دکھا کر کئی سالوں سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے۔ مہنگے پلاٹ فروخت کرنے کے بعد پلاٹ مالکان کو اپنے ہی پلاٹ تک رسائی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ وزارت صنعت، محکمہ صنعت، خیبر پختونخوا سرمایہ کاری بورڈ، خیبر پختونخوا اکنامک زون مینجمنٹ کمیٹی سمیت کئی اور ادارے سرمایہ کاروں کو صوبے میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب کی بجائے انہیں پنجاب اور سندھ ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔ بینکوں سمیت بعض ادارے بھی تصدیق شدہ فارمز کیلئے صنعتکاروں کو پریشانی سے دوچار کئے ہوئے ہیں۔ اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب ایک کمپنی کو رجسٹریشن کی فوٹو کاپی کی تصدیق کیلئے خزانہ بھیجا گیا جہاں سے فارم وصول کرنے کے بعد ایک ہزار دو سو روپے نیشنل بینک میں جمع کروانے کے لئے کہا گیا بعدازاں تین دن کے بعد محض مہر ثبت کرنے کا وقت دیا گیا۔ وقت کے ضیاع سے بچنے کیلئے صرف فوٹو کاپی تصدیق کے دو ہزار روپے بٹور لئے گئے۔ معاملہ کے پی سرمایہ کاری بورڈ کے ذمہ داران کے علم میں لایا گیا جبکہ وزیر صنعت اور سیکرٹری صنعت مصروفیات کے باعث اس نمائندے سے بات نہیں کر سکے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نگراں حکومت صوبہ خیبر پختونخوا کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے تو دوسری جانب ایک سازش کے تحت صوبے کو ایسے حکمرانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے جنہیں اس صوبے کی ترقی سے کوئی غرض نہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے بقایاجات نہ دئیے جانے کے معاملے نے بھی حکمرانوں کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ دریں اثناء ایک صنعت کار نے بتایا کہ اس نے ایک اکنامک زون میں کروڑوں روپے کا پلاٹ خریدا اور اب کارخانہ تعمیر کرنے کیلئے اسے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک اور سرمایہ کار نے بتایا کہ اس نے ساڑھے سات ارب روپے پنجاب میں انویسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں خیبر پختونخوا کی نسبت بہت آسانیاں ہیں۔ ادھر مستقبل میں بھی محض ٹرانزٹ ٹریڈ پر گزارہ کرنے والا یہ صوبہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے بھی شدید مشکلات سے دوچار دکھائی دیتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed