بچوں میں نزلہ و کھانسی, گھریلو ٹوٹکوں میں احتیاط اور طبی تدابیر کا مشورہ

موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی بچوں میں نزلہ، زکام، بخار اور کھانسی کی شکایات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ خصوصاً رات کے وقت بچوں کو لگنے والی مسلسل کھانسی نہ صرف ان کا سکون اور نیند متاثر کرتی ہے بلکہ والدین کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتی ہے۔ ایسے میں طبی ماہرین اور ماہرینِ صحت گھریلو ٹوٹکوں کے استعمال میں انتہائی احتیاط اور صرف سائنسی و طبی لحاظ سے محفوظ طریقے اپنانے کی ہدایت کرتے ہیں۔معروف گھریلو نسخوں میں زبیدہ آپا سے منسوب ایک انتہائی مقبول روایتی ٹوٹکا شامل ہے، جس میں سرسوں کے تیل میں لہسن کے جوے، ہلدی اور اجوائن کو ہلکا گرم کر کے بچے کی پسلیوں، سینے اور تلوؤں پر مالش کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ جکڑن میں کمی آ سکے۔ اسی طرح ایک سال سے زائد عمر کے بچوں کو آدھا سے ایک چائے کا چمچ قدرتی شہد دینے سے رات کے وقت کھانسی کی شدت میں نمایاں آرام ملتا ہے۔ تاہم، طبی ماہرین نے سخت تنبیہ کی ہے کہ ایک سال سے کم عمر بچوں کو بوٹولزم (Botulism) کے خطرے کے باعث شہد ہرگز نہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ، بچوں کو عمر کے مطابق نیم گرم پانی، یخنی یا سوپ پلانے سے گلے کی خشکی ختم ہوتی ہے اور بند ناک کھولنے کے لیے نارمل سیلائن ڈراپس کا استعمال بہترین ثابت ہوتا ہے۔ماہرینِ صحت کے مطابق بچوں کے تلوؤں پر وکس (Vicks) لگانے سے کھانسی ٹھیک ہونے کے کوئی واضح سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں، جبکہ دو سال سے کم عمر بچوں پر مینتھول (Menthol) والے بام استعمال کرنے سے ان کی سانس کی نالیوں میں سوزش کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر بچے کو سانس لینے میں دشواری ہو، تیز بخار مسلسل برقرار رہے یا کھانسی میں غیر معمولی اضافہ ہو تو گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے فوری طور پر مستند چائلڈ اسپیشلسٹ سے رجوع کیا جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed