امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی سفارتی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار ہے جبکہ دوبارہ لڑائی کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔عرب میڈیا نے ایرانی میڈیا کے ذرائع سے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے کے چند گھنٹے بعد آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں، قشم جزیرے کے قریب متعدد بحری جہاز شکن میزائل اور ڈرونز سے حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں تاہم ایرانی حکام نے ان حملوں کی تصدیق نہیں کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے عمان کے قریب بھی ایک بھارتی مال بردار جہاز پر حملے کے نتیجے میں ایک ملاح ہلاک ہو گیا تھا۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی حکام سے رابطہ کرنا ہو گا۔ایران نے جہاز رانی کمپنیوں کو عارضی منظور شدہ راستہ استعمال کرنے اور متعلقہ فیس ادا کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی۔ایرانی حکام نے غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔دوسری جانب امریکا کا دعوی ہے کہ اس کی جنگی کشتیاں تیل بردار جہازوں کو متبادل راستے سے آبنائے ہرمز سے نکال رہی ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریبا 13 ملین بیرل خام تیل خلیج سے منتقل ہو رہا ہے جبکہ تقریبا 2 ماہ کے دوران 1 ارب سے زائد بیرل خام تیل خلیج سے منتقل کیا گیا ہے۔ایران نے امریکی دعووں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا تاثر دینے کے لیے غلط معلومات پھیلا رہا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق موجودہ صورتِحال سے متعلق کنگز کالج لندن کے ماہر اینڈریاس کریگ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ ایران پر معاشی دبا بڑھنے کے باوجود تہران کے ہتھیار ڈالنے کا امکان فرض کرنا درست نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں مزید جہازوں کو روکنے، توانائی کے ڈھانچے پر حملوں، باب المندب میں حوثیوں کے دبا اور سعودی عرب کے متبادل برآمدی راستوں پر دبا میں اضافہ کر سکتا ہے۔







