خیبرپختونخوا پولیس کو17ہزار اہلکاروں اور افسران کی کمی ہے جبکہ دہشتگردی کی جنگ میں دو ایڈیشنل آئی جیز سمیت چار ہزار سے زائد پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں رواں مہینے کے دوران اب تک 25سے زائد پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں ،پولیس رپورٹ کے مطابق 17ہزار پولیس اہلکاروں کی کمی کے ساتھ ساتھ 13ہزار 500 اہلکار سیاسی اشرافیہ کی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ 2026 میں 220 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت سے چکانی پڑی، دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ضروری ڈیٹا فرانزک کے ضمن میں خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کا تمام تر انحصار پنجاب کی ڈیٹا فرانزک لیبارٹری پر ہے۔وسائل ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں، جس پر صوبائی حکومت پر سوالات اٹھ گئے۔ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں سے لڑنے والی فرنٹ لائن پولیس فورس کو دانستہ کمزور کرکے صوبے کا امن و امان دا پر لگا رہی ہے۔ وفاق اور این ایف سی سے 1000 ارب روپے ملنے کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کارنہ بڑھائی جا سکی، کثیر وسائل کے باوجود خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں اور 25 مستقل اہلکار موجود ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قبائلی اضلاع میں کمزور پولیس انفرا اسٹرکچر دہشت گردوں کے بارودی مواد اور کواڈ کاپٹر حملوں کے سامنے بے بس اور لاچار ثابت ہو







