۹ مئی شواہد کی فرانزک منتقلی کے خلاف پراسیکیوشن کی اپیل خارج

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ پر مشتمل سنگل بنچ نے ۹ مئی ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس کے مختلف شواہد پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا کو ارسال کرنے اور پرائیویٹ کونسل کی تقرری کے خلاف صوبائی حکومت کے سپیشل پراسیکیوٹر کی جانب سے دائر اپیل سماعت کے بعد خارج کر دی ہے۔دورانِ سماعت صوبائی حکومت کے تعینات کردہ سپیشل پراسیکیوٹر نعمان الحق کاکاخیل نے عدالت کو بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) میں ۹ اور ۱۰ مئی واقعے کا ٹرائل جاری ہے، جہاں ریڈیو پاکستان کے پرائیویٹ کونسل کی درخواست پر شواہد فرانزک اور نادرا کی تصدیق کے لیے بھیجے گئے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ان رپورٹس کی روشنی میں واقعے کے تین سال بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کو نامزد کرنا غیر قانونی عمل ہے۔ وکیلِ استغاثہ کے مطابق پرائیویٹ کونسل کی جانب سے بغیر تفتیش کے بعد میں یو ایس بی پیش کرنا اور پراسیکیوشن کی اجازت کے بغیر کارروائی آگے بڑھانا قانونی اصولوں کے منافی ہے۔دوسری جانب ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے عدالت عالیہ کے سامنے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب فرانزک اور نادرا کی رپورٹس کے بعد جن رہنماؤں کو کیس میں نامزد کیا گیا، ان میں سے ملزمان نے خود انسدادِ دہشت گردی عدالت سے رجوع کر کے عبوری قبل از گرفتاری ضمانتیں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نامزد ملزمان خود اس کارروائی کو چیلنج نہیں کر رہے تو پراسیکیوشن کا یہ قانونی حق نہیں بنتا کہ وہ ملزمان کو بچانے کے لیے اس قسم کا اقدام اٹھائے، کیونکہ پراسیکیوشن کا بنیادی کام انصاف کی فراہمی اور سزا دلوانا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے دونوں جانب کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپیشل پراسیکیوٹر کی درخواست مسترد کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed