پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ نے ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم وحید بِلا کی دہشتگردی کی دفعات کو ختم کرنے کی درخواست خارج کر دی ہے ۔ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں آگے بڑھے گا۔4دسمبر 2025کو ڈاکٹر وردہ دوران ڈیوٹی اپنی سہیلی ردا کے ساتھ بے نظیر بھٹو شہید ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی ایمرجنسی سے گاڑی میں بیٹھ کر گئیں جن کی 8دسمبر کو لڑی بنوٹہ کے جنگل سے نعش برآمد ہوئی تھی ۔67تولے طلائی زیورات ڈاکٹر وردہ نے اپنی سہیلی ردا وحید کے پاس رکھوائے تھے جن کی واپسی کے تقاضا پر ڈاکٹر وردہ جان کی بازی ہار گئیں تھیں جن کے مقدمہ میں ایک ملزم اجرتی قاتل شمریز پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا جب کہ ملوث ملزمان وحید بلا ،ردا وحید ودیگر جیل میں قید ہیں ۔اس افسوسناک قتل پر پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ایبٹ آباد نے بھرپور احتجاج کیا جس کے نتیجہ میں صوبائی سطح پر وزیر اعلی کے حکم پر ایک انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ بھی مرتب کی تھی ۔پیر کے روز ڈبل بنچ پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد نے وحید بلا کی جانب سے دائر درخواست جس میں اس مقدمہ کو انسداد دہشتگردی کی عدالت سے پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ میں چلانے اور دہشتگردی کی دفعات کو ختم کرنے کی استدعا کی تھی جس کو ڈبل بنچ نے مسترد کرتے ہوئے درخواست کو خارج کر دیا تھا ۔اس موقع پر پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ایبٹ آباد کے صدر ڈاکٹر معظم خان ،جنرل سیکرٹری ڈاکٹر وقار کا کہناتھا پشاور ہائیکورٹ سے درخواست خارج ہونا اس امر کی امید پیدا کرتی ہے کہ کیس اپنے قانونی اور منطقی انجام کی طرف بڑھے گا اور تمام حقائق عدالت کے سامنے آئیں گے۔ ہمارا بنیادی مطالبہ کسی فرد کے خلاف انتقام نہیں بلکہ شفاف قانونی کارروائی، حقائق کی مکمل چھان بین اور انصاف کی فراہمی ہے۔توقع کرتے ہیں کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں بھی مقدمہ میرٹ، شواہد اور قانون کے مطابق آگے بڑھے گا اور ڈاکٹر وردہ کے اہلِ خانہ اور تمام متعلقین کو انصاف ملے گا۔ملزمان وحید بلا کی جانب سے کیس کی پیروی وجہی خان ایڈووکیٹ نے کی ہے ۔







