مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت مصنوعی ذہانت سے معاشرے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار نہیں۔لندن میں برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ حکومتیں مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بہت پیچھے ہیں اور انہیں اس ٹیکنالوجی سے آنے والی تبدیلیوں کیلئے مزید تیاری کرنا ہوگی۔بل گیٹس نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت مصنوعی ذہانت کے معاملے پر اس سطح تک کام کر رہی ہے جس کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے وسیع امکانات پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو مناسب طریقے سے منظم کیا جائے اور اس تک مساوی رسائی یقینی بنائی جائے تو یہ دنیا کے غریب ترین افراد کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔بل گیٹس حالیہ عرصے تک مصنوعی ذہانت کے حوالے سے زیادہ پرامید موقف رکھتے تھے تاہم اب انہوں نے اس ٹیکنالوجی سے وابستہ بعض خطرات پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔انہوں نے مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کو لاحق خطرات، ممکنہ حملوں سے متعلق خدشات اور چیٹ بوٹس کی لت کے خطرات سے خبردار کیا۔بل گیٹس کے مطابق وہ اپنے خدشات کے حوالے سے دنیا کے مختلف رہنمائوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم سے بھی اس معاملے پر گفتگو کرچکے ہیں جبکہ رواں سال کے آخر میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔بل گیٹس اور ان کی فائونڈیشن کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے امیر اور غریب ممالک کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اس ٹیکنالوجی تک رسائی وسیع اور مساوی بنائی جائے۔فائونڈیشن نے اعلان کیا کہ وہ اگلے دو برس کے دوران مصنوعی ذہانت تک رسائی بڑھانے کیلئے کم از کم ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔یہ رقم فائونڈیشن کے پہلے سے اعلان کردہ سالانہ 9 ارب ڈالر خرچ کرنے کے منصوبے کا حصہ ہوگی۔ رقم ان شراکت دار اداروں کو فراہم کی جائے گی جو تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر کام کر رہے ہیں۔فائونڈیشن مصنوعی ذہانت کیلئے درکار ڈیٹا کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری میں بھی مدد کرے گی اس میں یہ کوشش بھی شامل ہے کہ بڑے لینگویج ماڈلز دنیا میں بولی جانے والی تمام زبانوں میں کام کرسکیں۔بل گیٹس نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے امکانات کو بھی نمایاں قرار دیا۔ ان کے مطابق صحت کے شعبے میں اے آئی کی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا بھی مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت صحت کے شعبے میں فرنٹ لائن ورکرز کی معاونت سے لے کر نئی ادویات اور ویکسینز کی دریافت تک اہم کردار ادا کرسکتی ہے تاہم بل گیٹس نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں کو ان مسائل سے نمٹنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا جو مصنوعی ذہانت کے پھیلا کے ساتھ سامنے آسکتے ہیں۔انہوں نے مصنوعی ذہانت کی آمد کو ایک ایسی صورتحال سے تشبیہ دی جس میں کسی فلم کی طرح ایک غیر معمولی ذہانت دنیا کے سامنے موجود ہو اور مختلف ممالک کو مل کر اس سے نمٹنا پڑے۔بل گیٹس نے کہا کہ فلموں میں اکثر دکھایا جاتا ہے کہ جب کسی دوسرے سیارے کی مخلوق زمین پر آتی ہے تو امریکا، چین اور دیگر ممالک مسئلے کو حل کرنے کیلئے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت بھی کسی حد تک ایسی ہی اجنبی ذہانت ہے جو اب موجود ہے اور دنیا کو اس صورتحال میں مل کر کام کرنا چاہیے۔بل گیٹس کا مصنوعی ذہانت کے حوالے سے موجودہ موقف ان کے ماضی کے نسبتا پرامید انداز سے مختلف ہے۔ انہوں نے حالیہ عرصے میں اے آئی کے ممکنہ منفی اثرات، خصوصا ملازمتوں، سکیورٹی اور انسانی رویوں پر اس کے اثرات سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سے زیادہ سے زیادہ افراد مستفید ہوسکیں اور اس کے ممکنہ نقصانات کو کم کیا جاسکے۔انٹرویو کے دوران بل گیٹس سے جیفری ایپسٹین سے تعلق کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔بل گیٹس نے جون میں امریکی کانگریس کے سامنے اپنے ایپسٹین سے تعلق کے حوالے سے گواہی دی تھی۔ وہ کسی جرم کے الزام کا سامنا نہیں کر رہے اور متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں ایپسٹین سے تعلق رکھنے پر افسوس ہے۔گیٹس کے مطابق انہیں امید تھی کہ ایپسٹین عالمی صحت کے منصوبوں کیلئے عطیات فراہم کریں گے تاہم ان کے بقول ایپسٹین نے بعد میں ان کے ازدواجی زندگی سے متعلق معاملات کو بنیاد بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ایپسٹین سے تعلق کے باعث بل گیٹس کی فائونڈیشن نے ایک بیرونی جائزہ بھی شروع کیا تھا۔ اس جائزے میں ایپسٹین کو کوئی ادائیگی کرنے یا مجرمانہ سرگرمیوں میں شرکت کے شواہد نہیں ملے۔







