پیپلز لائرز فورم خیبرپختون خوا نے نئے صوبوں کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے غیر آئینی اقدام کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اگر کسی صوبے کو انتظامی امور کے لئے تقسیم کرکے نئے صوبے بنانا ضروری ہو تو آئین کے تناظر میں پہلے وہاں کی صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے ا قرار داد منظور کرے گی جس کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن بھی دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری دے گا تاہم اب جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے وہ ماورا آئین ہے اور ائین سے انحراف ہے۔ان خیالات کا اظہار پیپلز لائرز فورم کے صوبائی صدر گوہر رحمان خٹک نے پشاور ہائیکورٹ میں تقریب سے خطاب کے دوران کیا جب کہ لائرز فورم میں شمولیت کرنے والے وکلاء کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم پیپلز پارٹی کا کارنامہ ہے اس سے پہلے ذوالفقارعلی بھٹو شہید نے 1973 کا ائین بنایا جو سب جماعتوں کو قابل قبول تھا مگر اب موجود حکومت نے نئے صوبوں کی بحث چھیڑ دی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں کیونکہ سندھ کی صوبائی اسمبلی پہلے ہی اس کو مسترد کر چکی ہے اور اگر پنجاب نئے صوبے بنانا چاہتا ہے تو وہ ان کا حق ہے تاہم خیبرپختون خوا، سندھ اور بلوچستان میں کسی طور غیرآئینی طریقے سے نئے صوبوں کو نہیں بنانے دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ائین کا ارٹیکل 239 اس پر واضح ہے کہ پہلے متعلقہ صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرار داد پاس کرے گی اور اس کی منظور پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن دو تہائی اکثریت سے دیگا اگر اس کے بغیر اس طرح کے کسی قسم کا اقدام اٹھایا جاتا ہے تو وہ ماوراء ائین ہے ۔گوہر رحمان خٹک نے کہا اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا موقف واضح ہے اور کسی صورت ان سے انحراف نہیں کیا جائے گا خیبر پختون خوا میں پیپلز لائرز فورم مضبوط ہو رہا ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں وکلا نے باقاعدہ طور پر خود کو پی ایل ایف کا رکن رجسٹرڈ کیا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لوگوں کا پیپلز پارٹی پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت صدر ان پر بہت سی زمہ داریاں عائد ہوتی ہے اور وہ ان سے انحراف نہیں کر سکتے اور نہ ہی کوئی قوت اسے بائی پاس کر کے خود سے کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں تاہم ان کی کوشش ہے کہ تمام ننظیم کو ساتھ لیکر چلے اور کسی کو شکایت کا موقع نہ دیا جائے انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ وکلاء کے سیاست میں پیپلز لائرز فورم ایک مضبوط قوت بن کر ابر رہی ہے







