پاسپورٹ کی تازہ عالمی درجہ بندی میں پاکستان 183ویں نمبر پر آ گیا

پاسپورٹ کی تازہ عالمی درجہ بندی میں پاکستان 183ویں نمبر پر آ گیا ہے، پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو مجموعی طور پر 42 مقامات تک آسان سفری سہولت حاصل ہے۔پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری 2026 میں دنیا کے 9ممالک کا سفر بغیر ویزا کے کرسکتے ہیں جبکہ کچھ دیگر ممالک میں پہنچنے پر ویزا یا آن لائن سفری اجازت حاصل کی جاسکتی ہے۔گلف نیوز کے مطابق پاکستان کا موبیلٹی اسکور 42 ہے۔ اس اسکور کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی شہری 42 ممالک میں بغیر ویزا سفر کرسکتے ہیں۔ اس میں ویزا فری داخلے کے ساتھ ویزا آن ارائیول اور الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن، یعنی ای ٹی اے کے ذریعے حاصل ہونے والی سہولت بھی شامل ہے۔پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو 9 ممالک میں ویزا فری داخلے کی اجازت ہے، جبکہ مزید 29 ممالک میں پہنچنے پر ویزا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ چار مقامات ایسے ہیں جہاں سفر سے قبل الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ای ٹی اے) حاصل کرنا ضروری ہے۔ای ٹی اے دراصل سفر کی پیشگی آن لائن اجازت ہوتی ہے، جس میں مسافر کو روایتی ویزا کے بجائے سفر سے پہلے متعلقہ ملک کے نظام پر الیکٹرانک منظوری حاصل کرنا پڑتی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ مسافر کو عام طور پر سفارت خانے سے روایتی ویزا لینے کے طویل عمل سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم ای ٹی اے ویزا فری سفر کے برابر نہیں ہوتی اور داخلے کی حتمی اجازت متعلقہ ملک کے امیگریشن حکام دیتے ہیں۔ دوسری جانب 156 ممالک میں سفر کرنے کے لئے روانگی سے پہلے ویزا حاصل کرنا پڑتا ہے۔رپورٹ میں جن 9 ممالک کو پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فری قرار دیا گیا ہے۔ ان میں بارباڈوس، ڈومینیکا، دی گیمبیا، ہیٹی، مائیکرونیشیا، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈینز، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور وانواٹو شامل ہیں۔ ویزا فری سفر میں مسافر کو عام طور پر سفر سے پہلے ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ویزا آن ارائیول کی صورت میں مسافر منزل پر پہنچنے کے بعد ویزا حاصل کرتا ہے، جبکہ ای ٹی اے کے تحت سفر سے پہلے آن لائن اجازت لینا ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے یہ تینوں سہولتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔تازہ اعداد و شمار پاکستانی شہریوں کے لیے بین الاقوامی سفر کی مجموعی صورتِ حال کو چیلنجنگ ظاہر کرتے ہیں۔ انڈیکس میں شامل 156 مقامات پر سفر کے لیے پہلے سے ویزا درکار ہے، جبکہ مکمل ویزا فری رسائی صرف 9 ممالک تک محدود ہے۔عالمی پاسپورٹ رینکنگ مختلف اداروں کے طریقہ کار کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔ بعض ادارے ویزا آن ارائیول، ای ٹی اے اور دیگر سفری سہولتوں کو مختلف انداز میں شمار کرتے ہیں۔ اس لیے یہ اعداد و شمار خاص طور پر پاسپورٹ رپورٹس کے طریقہ کار اور اس کے جاری کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر ہیں۔2026 کی اس درجہ بندی میں پاکستان سے نیچے صرف عراق، شام اور افغانستان کے پاسپورٹس موجود ہیں، جس سے پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی نقل و حرکت کی موجودہ کمزور پوزیشن واضح ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed