احسان اللہ شاکر
ضلع دیر پائین میں 9 سے 14 سال کی عمر کی بچیوں کو ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV)سے بچا ئوکی ویکسین لگانے کے لیے خصوصی مہم کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ HPV ویکسینیشن مہم 2 نومبر سے 14 نومبر تک جاری رہے گی جبکہ مہم کے حوالے سے فیلڈ سطح پر مائیکرو پلاننگ اور دیگر انتظامات کا آغاز کردیا گیا ہے۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر دیر پائین بشارت احمد کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر اعزا ارشد، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نیاز محمد آفریدی، ای پی آئی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ناصر خان، ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر احسان سمیت متعلقہ محکموں کے افسران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں HPV ویکسینیشن مہم کے انتظامات، ٹارگٹ، مائیکرو پلاننگ، ٹیموں کی تشکیل، عوامی رابطہ کاری اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق مہم کے دوران فکسڈ پوائنٹس اور موبائل ٹیموں کے ذریعے مقررہ ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ مہم کی کامیابی کے لیے 338 سوشل موبلائزرز بھی عوام میں آگاہی اور رابطہ کاری کے فرائض انجام دیں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مہم کے لیے6.7فیصد ٹارگٹ مقرر کیا گیا ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے محکمہ صحت کی ٹیمیں تعلیمی اداروں اور مختلف علاقوں میں رابطے کریں گی۔ عوامی سطح پر آگاہی اور ویکسین کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے خصوصی سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے۔اجلاس میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، علما کرام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا گیا۔ حکام نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں میں ویکسینیشن مہم کی رسائی ایک اہم چیلنج ہے، اس لیے متعلقہ اداروں کے انتظامیہ کے ساتھ مثر رابطہ کاری اور تعاون کو یقینی بنایا جائے گا۔علما کرام سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ ہر جمعہ کے خطبات اور نماز کے اجتماعات کے دوران HPV ویکسینیشن کے حوالے سے عوام کو آگاہی دیں اور والدین کو مہم میں تعاون کرنے کی ترغیب دیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل بچیوں کو ویکسین کی سہولت فراہم کی جاسکے۔ڈپٹی کمشنر بشارت احمد نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ HPV ویکسینیشن مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، تعلیمی اداروں، علما کرام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مئوثر رابطہ کاری قائم رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ مہم کی کامیابی کے لیے عوام کا تعاون ناگزیر ہے، اس لیے والدین کو ویکسین کے فوائد سے آگاہ کیا جائے اور انہیں اعتماد میں لے کر مہم کو مئوثر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مہم کے دوران فیلڈ ٹیموں کی نگرانی، مائیکرو پلاننگ اور عوامی رابطہ کاری کے عمل کو مثر بنایا جائے گا تاکہ مقررہ اہداف حاصل کرتے ہوئے HPV سے بچا کے حوالے سے مئوثر اقدامات یقینی بنائے جاسکیں۔







