2018ء سے منتظر حج کمپنی کو کوٹہ کیلئے زیر غور لانے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے حج کوٹہ کے حصول کے لیے دائر درخواست پر وفاقی حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر پیراوائز کمنٹس طلب کر لیے۔جسٹس کی سربراہی میں سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ فیض بخش عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کی کمپنی پاکستان کے کارپوریٹ قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہے اور حج و عمرہ خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی نے 2018 میں حج کوٹہ کے حصول کے لیے درخواست دی تھی اور اس کے بعد سے متعلقہ محکمے کی فہرست میں شامل ہے، تاہم اہلیت کے معیار پر پورا اترنے کے باوجود تاحال اسے حج کوٹہ الاٹ نہیں کیا گیا۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نئی حج پالیسی کے تحت موجودہ ٹور آپریٹرز اور نئے درخواست گزاروں سے کوٹہ کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں، تاہم درخواست گزار کی پہلے سے زیرِ التوا درخواست کو زیرِ غور نہیں لایا جا رہا۔درخواست گزار کے وکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے متعلقہ مقدمات میں جاری عبوری احکامات کا بھی حوالہ دیا۔عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پیراوائز کمنٹس دو ہفتوں کے اندر جمع کرائے جائیں۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ چونکہ درخواست گزار کو نجی حج اسکیم کے تحت حج کوٹہ کے لیے پہلے ہی اہل قرار دیا جا چکا ہے، اس لیے اس کی کوٹہ الاٹمنٹ کی درخواست کو دیگر دو کیٹیگریز کے ساتھ زیرِ غور لایا جائے۔کیس کی آئندہ سماعت کے لیے مختصر تاریخ مقرر کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed