امریکا کی بِنگہیمٹن یونیورسٹی کے محققین کی نئی تحقیق کے مطابق یادداشت میں کمی اور اس سے متعلق دماغی تبدیلیاں صرف بڑھاپے میں نہیں بلکہ درمیانی عمر ہی سے شروع ہو سکتی ہیں۔ 18 سے 74 سال کے افراد پر کیے گئے ایم آر آئی تجربات سے معلوم ہوا کہ نئی یادداشتیں بنانے اور انہیں محفوظ رکھنے والا دماغی حصہ ‘ہِپو کیمپس’ درمیانی عمر میں نمایاں تبدیلیاں دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق درمیانی عمر یادداشت کے تحفظ کے لیے ایک انتہائی اہم اور کلیدی مرحلہ ہے۔







