ایچ ایم سی کی فیئر پرائس فارمیسی میں مالی بے ضابطگیاں

میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی)کی فیئر پرائس فارمیسی کے امور کی انکوائری میں مجموعی طور پر تقریبا 3.74 ارب روپے کے مالی نقصان کی نشاندہی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق فیئر پرائس فارمیسی کے معاملات میں طویل عرصے سے انتظامی، خریداری اور مالیاتی کنٹرولز کے مسائل موجود رہے، جبکہ فارمیسی کے قیام سے چیف انٹرنل آڈیٹر کی تعیناتی تک اس کے مالی معاملات کا باقاعدہ داخلی آڈٹ بھی نہیں کیا گیا۔انکوائری 16 مئی 2026کو ایم ٹی آئی ایچ ایم سی کے بورڈ آف گورنرز کے 51ویں اجلاس کے بعد اسپتال ڈائریکٹر کی جانب سے شروع کی گئی۔پانچ رکنی انکوائری کمیٹی کی سربراہی فنانس ڈائریکٹر اکرام اللہ جان نے کی۔ کمیٹی نے ہسپتال مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (HMIS) کا ریکارڈ، خریداری کے احکامات، سپلائرز کے انوائسز، ادائیگی کے واوچرز، بینک اسٹیٹمنٹس، ٹینڈر دستاویزات، انوینٹری ریکارڈ اور ادویات کے استعمال سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لیا۔رپورٹ کے مطابق فیئر پرائس فارمیسی کو نومبر 2016 میں عوام کو مناسب قیمتوں پر ادویات فراہم کرنے کے لیے ریٹیل اور اوور دی کاونٹر سہولت کے طور پر منظور کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ صحت سہولت پروگرام کے مریضوں کے لیے ادویات اور طبی اشیا کی خریداری و فراہمی کا اہم ذریعہ بن گئی۔انکوائری کمیٹی کے مطابق اس تبدیلی کے نتیجے میں فارمیسی نے ہسپتال کے معمول کے ٹینڈر پر مبنی خریداری نظام کی جگہ لے لی، جبکہ 2016 میں وضع کیے گئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز میں طلب کی منصوبہ بندی، مسابقتی خریداری، فرائض کی تقسیم، سپلائرز کی پیشگی جانچ، مالی اختیارات اور داخلی آڈٹ سے متعلق مناسب حفاظتی اقدامات موجود نہیں تھے۔کمیٹی نے 10 جون 2026 تک دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر فیئر پرائس فارمیسی کے 2.76 ارب روپے سے زائد قابل وصول واجبات، تقریبا 34.7 کروڑ روپے کے بینک بیلنس اور تقریبا 1.43 ارب روپے کی واجب الادا ذمہ داریوں کی نشاندہی کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed