امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیووٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اہم مذاکرات میں حصہ لینے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگئے ۔امریکی نیوزویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں۔اس سے قبل لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد جمعہ کوطے شدہ پروگرام کے مطابق برجن سٹاک میں امریکا ایران مذاکرات منسوخ ہوگئے تھے ۔ جس کے بعد اسرائیل اور لبنانی حکام میں جنگ بندی معاہدے پر اتفاق ہوا اور اب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف مذاکرات شروع کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوئے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دونوں فریقین اب جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کیلئے باریک اور تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کا مکمل ارادہ رکھتے ہیں۔سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی علاقے میں ان تکنیکی مذاکرات کی تیاریاں پہلے ہی مکمل ہو چکی تھیں۔ سوئس وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگرچہ ملاقات میں کچھ تاخیر ہوئی، لیکن وہ اس امن عمل میں مدد کے لئے پوری طرح تیار ہیں اور ابتدائی کام جاری ہے۔







