ڈی ایٹ تنظیم کے سیکریٹری جنرل سہیل محمود کی کمیشن اجلاس میں شرکت

ترقی پذیر آٹھ ممالک کی اقتصادی تعاون تنظیم (ڈی ایٹ)کے سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے 15 سے 17 جون 2026 تک ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کا سرکاری دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈی ایٹ کمیشن کے 51ویں اجلاس اور تنظیم کے قیام کی 29ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کی۔ترکیہ کی میزبانی میں اور مصر کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ڈی ایٹ کے تمام رکن ممالک کے کمشنرز اور اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور تنظیم کے آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے 2026 کے پہلے نصف کے دوران سیکریٹریٹ کی سرگرمیوں پر مشتمل جامع رپورٹ پیش کی، جس میں بین الاقوامی شراکت داریوں کے فروغ، شعبہ جاتی تعاون کے دائرہ کار میں توسیع، تنظیم کی عالمی سطح پر مثر نمائندگی، اور تجارت، توانائی، سیاحت، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، نوجوانوں اور رابطہ کاری کے شعبوں میں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔اجلاس میں جکارتہ میں منعقد ہونے والے ڈی ایٹ کے 12ویں سربراہی اجلاس کی تیاریوں، ادارہ جاتی اصلاحات، انتظامی و مالی امور اور 2020-2030 کے دس سالہ روڈ میپ پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔کمیشن نے مصر کی جانب سے ڈی ایٹ ترجیحی تجارتی معاہدے اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کی توثیق کے اعلان کا خیرمقدم کیا، جس سے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام اور باہمی تجارت میں اضافے کی توقع ظاہر کی گئی۔15 جون کو ڈی ایٹ کے قیام کی 29ویں سالگرہ کے موقع پر ترکیہ کی وزارت خارجہ کے زیر اہتمام ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا،

جس میں سفارتکاروں، اعلی حکام، بین الاقوامی تنظیموں، کاروباری شخصیات اور علمی حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی نائب وزیر خارجہ سفیر بیریس ایکنچی نے کی جبکہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے ڈی ایٹ کے بانی، مرحوم وزیراعظم پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان کی بصیرت افروز قیادت کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ 1997 میں استنبول میں قائم ہونے والی تنظیم آج ایک متحرک بین البراعظمی پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر چکی ہے، جو ایک ارب 28 کروڑ سے زائد آبادی اور 5.2 ٹریلین ڈالر سے زائد مجموعی قومی پیداوار کی نمائندگی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات، جن میں جغرافیائی کشیدگی، اقتصادی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی، تکنیکی انقلاب اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات شامل ہیں، کے تناظر میں ڈی ایٹ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ تنظیم جنوبی ممالک کے درمیان تعاون، اقتصادی انضمام، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔سفیر سہیل محمود نے آذربائیجان کی نویں رکن ملک کے طور پر شمولیت، باکو میں ڈی ایٹ وزرائے توانائی کے پہلے اجلاس، عالمی شہری فورم کے دوران اعلی سطحی توانائی و شہری مکالمے، اور آذربائیجان میں ڈی ایٹ انرجی اینڈ کلائمیٹ سینٹر، ٹرانسپورٹ ایکسیلینس سینٹر اور میڈیا ایکسیلینس سینٹر کے قیام کے اقدامات کو نمایاں کامیابیوں میں شمار کیا۔انہوں نے اقوام متحدہ کے اداروں اور مختلف علاقائی تنظیموں بشمول ایف اے او، کامسٹیک، کامسیٹس، او ٹی ایس اور بی ایس ای سی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کا بھی ذکر کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیکریٹریٹ رکن ممالک کے ساتھ مل کر ایک مضبوط، متحرک اور مستقبل سے ہم آہنگ ڈی ایٹ کی تشکیل کے لیے کام جاری رکھے گا۔دورے کے دوران سیکریٹری جنرل نے ترکیہ کی قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین اور سابق نائب صدر فواد اوکتائے سے ملاقات کی، جس میں علاقائی و عالمی صورتحال، ڈی ایٹ کے 12ویں سربراہی اجلاس کی تیاریوں اور رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے ترک ترقیاتی ادارے ٹیکا کے صدر عبداللہ ایرن سے بھی ملاقات کی، جس میں ترقیاتی تعاون، ڈیجیٹل تبدیلی، ای گورننس، نوجوانوں اور خواتین کی کاروباری سرگرمیوں، زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اشتراک کے نئے امکانات پر غور کیا گیا۔علاوہ ازیں، کوسگیب کے صدر احمد سردار ابراہیم چی اوغلو کے ساتھ ملاقات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، جدت، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کے فروغ کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر ایس ایم ایز کی مالی معاونت اور علاقائی ویلیو چین کے فروغ کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed