شانگلہ میں بارش شروع ہوتے ہی بجلی کی بدترین اور طویل بندش معمول بن گئی ہے جس کے باعث عوام شدید پریشانی سے دوچار ہیں جبکہ کاروباری اور سماجی زندگی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ مختلف علاقوں میں 18 گھنٹے سے زائد بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے جبکہ بعض مقامات پر یہ دورانیہ 18 سے 20 گھنٹے تک جا پہنچتا ہیں۔جمعہ کی سہ پہر شانگلہ کے ضلعی ہیڈکوارٹر الپوری سمیت مختلف علاقوں میں تیز ہواں، گرج چمک اور موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہوا تو بجلی بھی غائب ہوگئی۔ الپوری فیڈر پر بجلی رات گئے بحال کی گئی جبکہ دیگر فیڈرز پر بجلی اگلے روز ہفتے تک بحال نہ ہو سکی۔ بارش کے دوران طویل بجلی بندش نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔شانگلہ میں واپڈا کے ریسکیو عملے کی عدم موجودگی کے باعث بجلی کی طویل بندش اب معمول بن چکی ہے۔ شانگلہ گرڈ اسٹیشن کوٹکے سے نئی ٹرانسمیشن لائن بچھائے جانے کے بعد تاجروں اور عوام نے خوشی کا اظہار کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ بارشوں کے دوران بجلی کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔یاد رہے کہ نئی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے دوران الپوری اور گردونواح کے ایک درجن سے زائد بازاروں کے تاجروں نے کئی ماہ تک مشکلات برداشت کیں۔ اس دوران صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بجلی بند رکھی جاتی تھی تاکہ لائن کی تنصیب کا کام مکمل کیا جا سکے۔ تاجروں اور عوام نے یہ قربانی اس امید پر دی تھی کہ مستقبل میں بجلی کی بندش کے مسائل حل ہو جائیں گے تاہم نئی ٹرانسمیشن لائن مکمل ہونے اور 45 فٹ کے نئے بجلی کے کھمبے نصب ہونے کے باوجود صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہ اسکی۔ معمولی بارش شروع ہوتے ہی الپوری تا لیلونئی اور کوٹکے تا رانیال،کانا تک جانے والے دونوں مرکزی فیڈرز ٹرپ کر جاتے ہیں۔ ان فیڈرز کا بار بار ٹرپ ہونا اور گھنٹوں بند رہنا اب معمول کا حصہ بن چکا ہیں۔انجمن تاجران اور اہلیان علاقہ کا کہنا ہیں کہ شانگلہ اپنے آبی وسائل سے 85 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ ضلع کی اپنی ضرورت محض 6 میگاواٹ کے لگ بھگ ہے اس کے باوجود یہاں کے عوام کو بجلی کی بدترین بندش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ شانگلہ کے پانی سے پیدا ہونے والی بجلی پر نہ تو مقامی آبادی کو کوئی رعایت دی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں ان کا بنیادی حق فراہم کیا جاتا ہے۔شانگلہ میں واپڈا کا ڈویژن موجود ہونے کے باوجود عملے کی شدید کمی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ واپڈا کا کوئی باقاعدہ ریسکیو عملہ موجود نہیں۔ جب کسی مقام پر بجلی کی خرابی پیدا ہوتی ہے تو مختلف علاقوں کے اہلکاروں کو فون کے ذریعے جمع کیا جاتا ہے جس میں ہی کئی گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں اور عوام طویل وقت تک بجلی سے محروم رہتے ہیں۔عوام اور تاجروں نے واپڈا کے اعلی حکام اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شانگلہ میں فوری طور پر مستقل واپڈا ریسکیو ٹیم تعینات کی جائے تاکہ بجلی کے نظام میں خرابی کی صورت میں فوری کارروائی ممکن ہو سکے اور عوام کو گھنٹوں اور بعض اوقات پورے دن بجلی سے محروم نہ رہنا پڑے۔ ان کا کہنا ہے کہ شانگلہ جیسے بجلی پیدا کرنے والے ضلع کے عوام کو کم از کم بلا تعطل اور بروقت بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔۔







