بانی سے ملاقات تک وفاق کو کوئی گرانٹ نہیں دی جائیگی،شفیع جان

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، وفاق کو کوئی گرانٹ نہیں دی جائے گی، بجٹ میں گرانٹ ان ایڈ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات سے مشروط ہے، بانی پی ٹی آئی سے جب تک ملاقات نہیں ہوتی ہم کٹوتی نہیں کرنے دیں گے،نیشنل اکنامک کونسل متعلقہ فورم نہیں، لیگل فورم صرف این ایف سی ہے، 5 ہزار 260 ارب روپے ایف بی آر جمع کرے گا تو وہ صوبوں میں بانٹا جائے گا،وفاق سے زیادہ لوگوں کو خیبر پختونخوا کے بجٹ کا انتظار تھا،صوبے کا بجٹ تاریخی ہے۔ ہفتہ کو یہاں مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفر کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاق سے زیادہ لوگوں کو خیبر پختونخوا کے بجٹ کا انتظار تھا،صوبے کا بجٹ تاریخی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے 3 مہینے کا بجٹ پیش کرنے کا ارادہ تھا، جس میں قانونی پیچیدگیاں آرہی تھیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، وفاق کو کوئی گرانٹ نہیں دی جائے گی، گرانٹ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات سے مشروط ہے۔انہوںنے کہاکہ بانی پی ٹی آئی سے جب تک ملاقات نہیں ہوتی ہم کٹوتی نہیں کرنے دیں گے۔شفیع جان نے کہا کہ 7 ماہ سے بانی پی ٹی آئی سے فیملی کی ملاقات نہیں ہوئی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے۔اس موقع پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے وفاق سے کہا کہ ہمیں بانی سے مشورے کا موقع دیا جائے۔انہوںنے کہاکہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ چاروں صوبے پیسے دیں گے جبکہ ایسا نہیں، پی ایس ڈی پی کا ازسر نو جائزہ اور دیگر چیزیں ایجنڈے میں شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل اکنامک کونسل متعلقہ فورم نہیں، لیگل فورم صرف این ایف سی ہے، 5 ہزار 260 ارب روپے ایف بی آر جمع کرے گا تو وہ صوبوں میں بانٹا جائے گا، وفاق صوبوں کے پیسے نہیں کاٹ سکتا، وفاقی بجٹ سے صوبائی بجٹ اہم ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ 6 ماہ میں این ایف سی ہوگا، وہ ہمارے پیسوں پر کٹ نہیں لگا سکتے، اس کیلئے ترمیم کرنی ہوگی۔مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے باعث عام آدمی متاثر ہوتا ہے، عام آدمی کی پوزیشن کو نارمل کرنے کیلیے صوبائی بجٹ ہوتا ہے، ضم اضلاع کے بجٹ میں 121 ارب کا خسارہ ہے۔مشیر خزانہ نے کہاکہ یہ میرا چوتھا بجٹ ہے، اس بجٹ کے بعد کوئی احتجاج نہیں ہوا، ہم نے بجٹ سے پہلے سب سے مشاورت کی، تاثر دیا جا رہا ہے کہ سرپلس کے بجٹ کو خسارے کے بجٹ میں تبدیل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 180 ارب میں سے وفاق نے صرف 95 ارب دیے، بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں میں چلا جاتا ہے، تعلیم، صحت اور پولیس کو سب سے زیادہ بجٹ مختص کیا گیا۔مشیر خزانہ خیبر پختونخوا نے کہا کہ پچھلے سال بھی ہم نے ٹیکس نہیں لگایا تھا اس سال بھی کم کیا ہے، ہم نے چیزیں آسان کی ہیں، ڈیجیٹل پیمنٹ میں کے پی سب سے پیچھے تھا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ہماری تنخواہوں کا حصہ 58 فیصد ہے، صحت کارڈ کے لیے 125 ارب روپے دیے ہیں، اس بار پولیس پروکیورمنٹ کے لیے ساڑھے 14 ارب رکھے ہیں، بی آر ٹی کیلئے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بیرون ملک جانے والے ذہین بچوں کو سود سے پاک قرضہ دیا جائے گا، ان ذہین بچوں کیلیے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورے پشاور کیلیے پبلک فری وائی فائے دیا جائے گا، فری وائی فائے کیلیے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبر پختونخوا کے مطابق ہم نے کم سے کم اجرت 45 ہزار روپے کی ہے، نجی شعبے بھی اس پر عمل کریں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed