شاہراہ قراقرم پر سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے صورتحال سنگین، ہزاروں مسافر اور سیاح پھنس گئے۔شاہراہ قراقرم پر حالیہ بارشوں، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال بدستور تشویشناک۔ مختلف مقامات پر سڑکوں کی بندش کے باعث ہزاروں مسافر، سیاح اور ٹرانسپورٹرز شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ بحالی کے کام میں سست روی پر متاثرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہیں۔گوہر فارم چلاس،گنو کے مقاموں پر شاہراہ قراقرم پر سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال بدستور برقرار، مولاداد پڑی اور گوہر فارم،گنو کے مقامات پر سڑک گزشتہ روز سے بند ہیں۔48 گھنٹوں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود شاہراہ ٹریفک کے لیے بحال نہ ہو سکی جسکے باعث سینکڑوں مسافر اور سیاح مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں۔شاہراہ قراقرم کی بندش کے باعث شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں جبکہ مسافروں کو خوراک، رہائش اور سفری مشکلات کا سامنا ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ سے آنے والے بھاری ملبے اور محدود مشینری کے باعث بحالی کا کام سست روی کا شکار ہیں۔متاثرہ مسافروں اور سیاحوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہیں کہ شاہراہ قراقرم کو ایمرجنسی بنیادوں پر بحال کرنے کے لیے فوری اور مثر اقدامات کیے جائیں۔مسافروں اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں دونوں طرف سیاح پھنس گئے ہیں ایک سیاح جس کا تعلق لاہور سے ہے نے ہمارے نمائندوں کو بتایا کہ شدید مشکلات میں ہیں او ر امدورفت کے دونوں اطراف سڑکیں سلائیڈنگ کے زد میں انے والا ایک طرف کٹاہواہیں تو دوسری طرف سیلابی ریلی میں سڑکیں بہہ جانے سے گو ہرنالے کے مقام پر بڑی تباہی ہوئی ہیں۔لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے زائد بائیکرز جو شمالی علاقہ جات سیر کے لیے نکلے تھے میں ایک حمزہ اور رمضان نے بتایا کہ 48 گھنٹے سے زائد ہو چکے ہیں کہ گوہر فارم کے مقام پر پھسے ہوئے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے روڈ کی دوبارہ بحالی کے لیے اب تک کوئی کام شروع نہ ہو سکا۔ ادھر جمعہ کے صبح سے شاہراہ قراقرم پر کوہستان سمیت مختلف مقامات پر دوبارہ شدید بارش ہونے کے بعد مختلف مقامات پر سلائیڈنگ ہوئی ہیں۔مقامی پولیس کے مطابق سلائیڈنگ کی صفائی کے لیے باری مشینری سے کام جاری ہیں تاہم جمعہ کے روز اخری اطلاعات تک شاہراہ قراقرم گوہر فارم،گنوں اور دوسرے کئی مقامات پر جگہ جگہ بند ہیں۔







