غزہ سنگین انسانی بحران کا شکارہے ، سلامتی کونسل اقدامات اٹھائے، پاکستان

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ غزہ بدستور سنگین انسانی بحران کا شکار ہے، وہاں کے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، سلامتی کونسل فوری اقدامات اٹھائے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔عاصم افتخار نے کہا کہ جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کے باعث عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے، جبکہ غزہ میں انسانی بحران بدستور شدت اختیار کیے ہوئے ہے، غزہ میں لاکھوں افراد بھوک اور غذائی عدم تحفظ کاشکار ہیں، 10 لاکھ سے زائد بچے غذائی قلت اور صحت و تعلیم سے محروم ہیں۔پاکستانی مستقل مندوب نے کہا ہے کہ فلسطین کے مسئلے اور انسانی بحرانوں کے مستقل حل کا واحد راستہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔انہوں نے کہا کہ یہی وہ وژن اور سیاسی راستہ ہے جس پر عالمی برادری کا وسیع اتفاقِ رائے موجود ہے، اور ہماری تمام کوششوں کا رخ اسی مقصد کی جانب ہونا چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عمل درآمد ہونا چاہئے اور اس کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، بغیر کسی شرط کے فوری تعمیرِ نو، اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لئے ایک قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین کے ساتھ سیاسی عمل کا آغاز ہونا چاہئے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ مغربی کنارے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جہاں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، جبری بے دخلی اور غیرقانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع کے باعث صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔عاصم افتخار نے زور دیا کہ عالمی برادری اجتماعی کارروائی کرے اور فوری، بلا رکاوٹ اور آزادانہ انسانی رسائی کو یقینی بنایا جائے، بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں 2720 اور 2803 کے مطابق امدادی سامان کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں، رفح سمیت تمام سرحدی گزرگاہیں امداد، تجارتی سامان اور طبی انخلا کیلئے کھولی جائیں اور مکمل طور پر فعال رکھی جائیں۔انہوں نے کہا کہ غزہ کا محاصرہ برسوں سے قبضے اور اجتماعی سزا کا ایک ذریعہ رہا ہے، رسائی اور نقل و حرکت پر کنٹرول کے ذریعے قابض طاقت 21 لاکھ فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، یہ محاصرہ بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہے۔ انسانی امداد کو کبھی بھی بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہئے، اور محاصرہ فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ انسانی امداد غیرمشروط ہونی چاہئے، سیاسی کوششیں اپنی جگہ جاری رہیں، لیکن امداد کی فراہمی کو سیاسی شرائط یا مذاکراتی مراحل سے مشروط نہیں کیا جانا چاہئے، جامع منصوبے کے مطابق پورے غزہ میں امدادی سرگرمیاں اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے بغیر مداخلت جاری رہنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ مالی وسائل کی شدید کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے، اقوام متحدہ کی 2026 کی ہنگامی اپیل اب تک صرف تقریبا 12 فیصد فنڈنگ حاصل کر سکی ہے، غزہ تعمیرِ نو و ترقی فنڈ کا قیام اور 17 ارب امریکی ڈالر کے تعمیرِ نو وعدے خوش آئند ہیں، تاہم فنڈنگ کے خلا کو پر کرنے کیلئے فوری مالی وسائل مہیا کرنا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed