اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے پہلے کہا تھا کہ گرفتار 175 فلوٹیلا ارکان کو اسرائیل منتقل کیا جائے گا۔اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یونانی حکومت کیساتھ معاہدے کے باعث ان افراد کوچند گھنٹوں میں یونان کے ساحل پر اتاردیا جائیگا۔دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بین الاقوامی پانیوں میں گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکے جانے اور اس میں سوار کارکنوں کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور انسانی امداد کی فراہمی میں دانستہ رکاوٹ قرار دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی سمود فلوٹیلا کو بین الاقوامی پانیوں میں روکنا غیر قانونی اقدام ہے، فلوٹیلا پر موجود کارکنان کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد میں رکاوٹ ناقابلِ قبول ہے، عالمی برادری اسرائیل کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرائے، فلوٹیلا پر موجود تمام امدادی کارکنوں کی فوری رہائی یقینی بنائی جائے۔ ادھر دنیا کے 11ممالک کے وزرائے خارجہ کی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مشترکا بیان میں کہا ہے کہ یہ فلوٹیلا پرامن، شہری اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام تھا، اس کامقصد غزہ میں انسانی بحران کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانا تھا۔ترکیہ، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، اردن، لیبیا، ملائیشیا، مالدیپ، پاکستان، جنوبی افریقا اور اسپین کے وزرائے خارجہ کے مشترکا بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے اور غیر قانونی حراست بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، اسرائیلی حکام انسانی ہمدردی کیکارکنوں کی فوری رہائی یقینی بنائیں۔ بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنائے،خلاف ورزیوں پراحتساب کیاجائے۔







