ترقی پذیر آٹھ ممالک کی تنظیم برائے اقتصادی تعاون (ڈی ایٹ)نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے فروغ اور باہمی تعاون کو مزید مئوثر بنانے کے لیے عملی روڈ میپ پر پیش رفت کی ہے۔ یہ پیش رفت ڈی ایٹ ایس ایم ای سرکاری ادارہ جات کے نویں اجلاس میں سامنے آئی، جس کی میزبانی نائجیریا کے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ ایجنسی نے ورچوئل اجلاس میں کی۔اجلاس میں رکن ممالک کے اعلی حکام اور نمائندوں نے شرکت کی اور ایس ایم ای شعبے کو ترقی، روزگار کے مواقع اور جدت کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ڈی ایٹ کے سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز دنیا بھر کی معیشتوں میں ترقی کے انجن کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ ڈی ایٹ ممالک میں بھی یہ شعبہ روزگار، اختراع اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2030 تک باہمی تجارت کو 500 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف میں ایس ایم ایز اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ 2024 میں یہ تجارت 157 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ای شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال، استعداد کار بڑھانے اور رکن ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں ملائیشیا کی جانب سے عالمی یوم مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کو گرین ایم ایس ایم ایز اور میڈیکل ٹورازم کے موضوع کے ساتھ منانے کے اقدام کو بھی سراہا گیا۔سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ڈی ایٹ ایس ایم ای سینٹر کو فعال بنا کر اسے تربیت، کاروباری روابط اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے آذربائیجان اور نائجیریا کی جانب سے پیش کیے گئے ایکشن پلانز کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ طے شدہ منصوبوں پر بروقت عملدرآمد سے ایس ایم ای شعبہ مضبوط ہوگا، رکن ممالک کے درمیان تجارت بڑھے گی اور خطے میں جامع و پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔
ڈی ایٹ کا اہم ورچوئل اجلاس، ایس ایم ایز کے فروغ کیلئے روڈ میپ پر پیشرفت







