دنیا بھر میں صحافتی آزادی 25سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

پیرس میں قائم تنظیم رپورٹرز وِد آٹ بارڈرز کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صحافتی آزادی گزشتہ 25 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔تنظیم کے عالمی درجہ بندی اشاریے کے مطابق 180 ممالک میں سے نصف سے زائد اب مشکل یا انتہائی سنگین زمروں میں شامل ہو چکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحافت کو عالمی سطح پر ایک جرم بنایا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق صرف 7 ممالک (زیادہ تر شمالی یورپ کے) ایسے ہیں جہاں صحافتی آزادی کی صورتِ حال اچھی ہے، ان ممالک میں ناروے، نیدرلینڈز اور ایسٹونیا سرِفہرست ہیں۔فہرست میں فرانس 25 ویں نمبر پر ہے جبکہ امریکا 64 ویں نمبر پر جہاں حالیہ برسوں میں میڈیا پر دبا میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔تنظیم نے بتایا ہے کہ کئی ممالک میں صحافیوں کو قانونی اور ریاستی اقدامات کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت، مصر، ترکی، جارجیا اور ہانگ کانگ میں میڈیا کے خلاف سخت کارروائیاں رپورٹ ہو چکی ہیں جبکہ مشرقی یورپ اور مشرقِ وسطی کو بدستور صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک خطے قرار دیا گیا ہے جہاں روس اور ایران نچلے درجوں میں شامل ہیں۔رپورٹ میں غزہ میں اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک 220 سے زائد صحافیوں کی ہلاکت بھی تشویش کا باعث قرار دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق جنگیں، معلومات تک رسائی پر پابندیاں اور ہنگامی قوانین کا غلط استعمال صحافتی آزادی میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ کیے تو صحافت پر دبا مزید بڑھ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed