سردی کے اغاز کے ساتھ ہی بچوں میں نمونیا کے کیسز سامنے انے لگے ہیں بچوں میں نمونیا پھیلنے کے باعث دو ہفتوں کے دوران 34 سے زاہد بچے موت کے اغوش میں چلے گئے ہیں سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں عام دنوں کے مقابلے میں ان دنوں میں نمونیا کی کیسز میں اضافہ ہونے لگا ہے عالمی ادارے صحت کے مطابق پاکستان میں سالانہ 70 ہزار سے زائد بچے نمونیا کی وجہ سے انتقال کر دیتے ہیں۔بچوں میں نزلہ کھانسی بخار اور سینے کی خرابی نمونیا کی علامات ہے پشاور کے تینوں بڑے ہسپتالوں بچوں کے سرکاری ہسپتالوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں مین نمونیا میں مبتلا بچوں کو لایا جا رہا ہے ہسپتالوں میں بچوں کی تعداد میں اضافے کے باعث ایک ایک بیڈ پر دو سے تین بچوں کا علاج کیا جا رہا ہے سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی نمونیا میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے جبکہ نمونیا کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض ادویات مارکیٹ سے غائب ہو گئی ہے جبکہ بعض ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافہ ہوا ہے نمونیا میں مبتلا بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے بچوں کی ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیادوں پر درجنوں بچوں کو لایا جا رہا ہے پشاور کی نواہی علاقوں میں درجنوں بچیں نمونیا کا شکار ہو چکے ہیں نمونیا کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے







