شاہراہ قراقرم بار بار بندش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامناہیں۔شاہراہ قراقرم ایک بار پھر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق مختلف جگہوں میں لینڈسلائیڈنگ اور چلاس میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حامیوں کی جانب سے زیرو پوائنٹ اور بٹوکوٹ کے مقامات پر احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ کو بلاک کر دیا گیا جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ہزاروں مسافر راستے میں پھنس کر رہ گئے۔ترجمان گلگت بلتستان پولیس کے مطابق سڑک کی بندش ایک غیر قانونی اقدام ہے اور روڈ بلاک کرنے، ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے یا قانون کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اس عمل میں ملوث افراد کے ساتھ ساتھ ان کے پشت پناہوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہیں کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور محفوظ مقامات پر قیام کریں جہاں بنیادی سہولیات دستیاب ہوں۔دوسری جانب ٹرانسپورٹرز، مقامی افراد اور سیاحوں نے شاہراہ قراقرم پر آئے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں، سڑکوں کی بندش اور بارشوں کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہیں ان کا کہنا ہیں کہ ایک طرف مختلف مقامات پر احتجاج کے باعث ٹریفک معطل رہتی ہیں جبکہ دوسری طرف بارشوں کے دوران لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ کئی کئی گھنٹے بند رہتی ہیں جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہیں۔مسافروں کا کہنا ہیں کہ شاہراہ قراقرم جسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے پر جدید مانیٹرنگ اور ہنگامی انتظامات کا فقدان ہیں۔ حساس مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی بروقت اطلاع، چیک پوسٹوں پر آگاہی نظام اور ہنگامی امدادی مراکز قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہیں کہ اکثر اوقات ہزاروں مسافر کھلے آسمان تلے 30 سے 40 گھنٹے تک ملبہ ہٹانے کا انتظار کرتے رہتے ہیں جبکہ خوراک، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔ٹرانسپورٹرز اور سیاحوں نے وفاقی و گلگت بلتستان حکومت، این ایچ اے اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہیں کہ شاہراہ قراقرم پر مستقل مانیٹرنگ سسٹم، فوری رسپانس ٹیمیں، ریسکیو مراکز اور مسافروں کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ مستقبل میں عوام کو اس قسم کی ناقابلِ برداشت صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔







