فنڈز کی کمی سے ملک بھر میں 16اہم شاہراتی منصوبے تاخیر کا شکار

مالی وسائل کی کمی کے باعث پاکستان بھر میں کم از کم 16 اہم شاہراتی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں جبکہ متعدد منصوبوں کی تکمیل کیلئے اضافی فنڈز درکار ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قومی شاہراہوں، موٹرویز، بائی پاسز، انٹرچینجز اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کو درپیش مالی مشکلات ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار سست کر رہی ہیں۔دستاویزات کے مطابق بلوچستان، پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں جاری متعدد منصوبوں کی تکمیل مقررہ وقت سے پیچھے چلی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ مطلوبہ فنڈز کی عدم دستیابی ہے۔متاثرہ منصوبوں میں این-50 پر یارک، سگو، ژوب شاہراہ اور ژوب بائی پاس شامل ہیں، جن کی لاگت 76 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ منصوبے کا ٹھیکہ جاری ہو چکا ہے، تاہم اب اس کی تکمیل ستمبر 2027 تک متوقع ہے۔اسی طرح بلوچستان میں رابطہ سڑکوں کے دو اہم منصوبے، آواران تا نال سیکشن اور ہوشاب تا آواران شاہراہ، جن کی مجموعی لاگت تقریبا 58 ارب روپے بنتی ہے، اب جون 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔298 کلومیٹر طویل ژوب تا کچلاک شاہراہ بھی فنڈز کی کمی سے متاثر ہونے والے بڑے منصوبوں میں شامل ہے۔ 63 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے اس منصوبے کا آغاز مئی 2021 میں ہوا تھا، تاہم اب اس کی تکمیل جون 2028 تک مخر ہو گئی ہے۔بلوچستان کے دیگر منصوبے، جن میں نوکنڈی تا ماشخیل شاہراہ، جھل جھا بیلو روڈ اور کوئٹہ مغربی بائی پاس شامل ہیں، بھی تاخیر کا شکار ہیں۔ ان منصوبوں کی نئی تکمیلی تاریخیں جون سے دسمبر 2026 کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔موٹرویز تک رسائی بہتر بنانے کے منصوبے بھی مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شیخوپورہ میں عبدالحکیم موٹروے انٹرچینج کی تکمیل کے لیے مزید ایک ارب 26 کروڑ روپے درکار ہیں، جبکہ ایم-5 پر بھونگ انٹرچینج کی تکمیل کے لیے تقریبا ایک ارب 45 کروڑ روپے اضافی فنڈز کی ضرورت ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بعض منصوبے تکنیکی طور پر مکمل ہو چکے ہیں، تاہم بقایا واجبات کی ادائیگی اور مالی حسابات کی تکمیل کے لیے مزید فنڈز درکار ہیں۔ ان میں شاہدرہ کی امامیہ کالونی ریلوے کراسنگ پر آٹھ رویہ بالائی پل، ایم-2 پر کوٹ پنڈی داس انٹرچینج اور سیدوالہ میں دریائے راوی پر تعمیر کردہ پل شامل ہیں۔لاہور تا ملتان موٹروے کا ایم-3 سیکشن بھی مکمل ہو چکا ہے، تاہم واجبات کی ادائیگی کے لیے تقریبا 9 ارب روپے مزید درکار ہیں۔دوسری جانب حکومت نے لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے اور لاہور رنگ روڈ کو قصور روڈ سے ملانے کے مجوزہ منصوبے کے لیے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں 15 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس بڑے منصوبے کی مجموعی لاگت 263 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔اسی طرح لاہور سیالکوٹ موٹروے کو نارووال سے ملانے والی رابطہ شاہراہ اور مارگلہ شاہراہ کی توسیع کے منصوبوں کے لیے بھی بالترتیب 8 ارب اور 6 ارب روپے اضافی فنڈز درکار ہیں تاکہ نظرثانی شدہ مدت کے اندر انہیں مکمل کیا جا سکے۔ماہرین کے مطابق سڑکوں کے ان اہم منصوبوں میں تاخیر سے نہ صرف تعمیراتی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ بہتر نقل و حمل، تجارت کے فروغ اور علاقائی رابطوں سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد بھی مخر ہو جائیں گے۔ اس صورتحال میں ترقیاتی فنڈز کی بروقت فراہمی کو قومی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed