فیس بک، ٹک ٹاک سے پیچھے کیوں رہ گئی؟

میٹا کے چیف مارک زکربرگ نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ ان کی سوشل میڈیا ایپلیکیشنز ٹک ٹاک کے مقابلے میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ مارک زکربرگ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ہم سوشل نیٹ ورکنگ سروسز کے ذریعے نئے ٹرینڈز کو اپنانے میں ناکام رہے ہیں جوکہ ٹک ٹاک کی مقبولیت کی اہم وجہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب لوگوں میں دوستوں کی جانب سے شیئر کیے گئے مواد کو دیکھنے کی بجائے اپنی سوشل نیٹ ورکنگ فیڈز کا اپنی پسند کے مواد کی تلاش کے لیے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ لوگ اب بھی اپنے دوستوں کے شیئر کردہ مواد پر بات کرتے ہیں مگر مجموعی طور پر نئے مواد کو تلاش کرنے کا رجحان اب بڑھ گیا ہے۔مارک زکربرگ نے بتایا کہ دراصل اب صارفین کو جو مواد دلچسپ لگتا ہے وہ اسے دوستوں کو میسجز میں بھیجتے ہیں اور اس طرح ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس بات کی اہمیت بہت کم رہ گئی ہے کہ موادکون تیار کررہا ہے،اب لوگ بس بہترین مواد چاہتے ہیں۔مارک زکربرگ نے اپنے اس انٹرویو کے دوران ٹک ٹاک کو ایک انتہائی موثر مدمقابل کے طور پر تسلیم کیا ہے۔میٹا کے چیف کا کہنا ہے کہ کمپنی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی اے آئی ٹیکنالوجی تیار کرے جوکہ صارفین کو ان کی پسند کی مختصر ویڈیوز کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے موادکی تلاش میں مدد کر سکے۔ماہرین کے مطابق، ٹک ٹاک کو بہت کم وقت میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کرنے میں کامیابی اپنے الگورتھم کے ذریعے ملی جوکہ صارفین کی عادات اور ہسٹری کی بنیاد پر انہیں ان کی پسند کی مختصر ویڈیوز کے بارے میں بتاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed