پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تاجر برادری نے آپریشن کی آڑ میں قانونی دستاویزات رکھنے والے میڈیسن کے تاجروں کی دکانیں بغیر پیشگی نوٹس مسمار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے گروپ لیڈر ملک مہر الہی، سینئر نائب صدر حاجی امجد خان، نائب صدر ہاشم خان، ایگزیکٹیو ممبرز، جنرل سیکرٹری تنظیم تاجران خیبرپختونخوا شکیل احمد خان صراف، ترجمان شہزاد احمد صدیقی اور دیگر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ قانون کے مطابق تجاوزات کا خاتمہ خوش آئند اور ضروری ہے لیکن قانونی دستاویزات کے حامل تاجروں کو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے بے دخل کرنا اور ان کے کاروباری مراکز کو مسمار کر کے کروڑوں روپے کا مالی نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا تو قانون کا تقاضا تھا کہ متعلقہ تاجروں کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے ان کا مقف سنا جاتا، شدید معاشی بحران کا شکار تاجر برادری اچانک کارروائی سے مزید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے اور ان کے روزگار کے ذرائع مسدود ہو کر رہ گئے ہیں، تاجر قیادت نے گورنر خیبرپختونخوا، چیف سیکرٹری، کمشنر پشاور اور عدالت عالیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ مبینہ غیر قانونی تعمیرات قائم ہو رہی تھیں تو اس وقت متعلقہ اداروں کی نگرانی کہاں تھی؟ اگر تعمیرات غلط تھیں تو بروقت روک تھام کیوں نہیں کی گئی اور غفلت برتنے والے اہلکاروں کا تعین کون کرے گا، تاجر رہنماں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ تاجروں کے مالی نقصانات کا فوری تخمینہ لگا کر ان کے ازالے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں اور آئندہ کی کارروائیوں میں انصاف و قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متاثرہ تاجروں اور کیمسٹس کو فوری انصاف نہ ملا تو پوری تاجر برادری، کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے ہر آئندہ لائحہ عمل اور احتجاج کی بھرپور حمایت کرے گی۔







