پاکستانی قیادت کی خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جس کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں اعلیٰ ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر باقر قالیباف اور سیکیورٹی چیف محسن رضائی سے الگ الگ گفتگو کی، جس میں علاقائی صورت حال اور جنگ بندی کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ موجود تھے۔
ان ملاقاتوں کے دوران ایرانی قیادت نے یہ موقف اختیار کیا کہ جب تک تہران کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے واضح کیا کہ واشنگٹن پر اس وقت تک دوبارہ اعتماد ممکن نہیں جب تک وہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط کو تسلیم نہیں کر لیتا۔ ان شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھانا اور خطے کے تمام محاذوں پر کامل جنگ بندی شامل ہے۔
سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنا افزودہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا اور یہ پالیسی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے واضح موقف کے مطابق ہے۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہو گی۔ ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل نے تصدیق کی کہ پاک ایران سرحد کھلی ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال جنگ کی شروعات کے بعد سے فیلڈ مارشل کا ایران کا یہ چوتھا دورہ ہے، اور جون میں پاکستان کی کاوشوں سے ایک عبوری امن معاہدہ بھی طے پایا تھا، تاہم اب بھی تنازع کے دائمی حل اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی میں اہم مشکلات درپیش ہیں۔







