پشاور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا، سابق صوبائی وزیر کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کی جانب سے عبوری ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے درخواستیں نمٹا دیں۔کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ولی محمد خان نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا علی گوہر درانی، بیرسٹر سرور مظفر شاہ اور محمد انعام یوسفزئی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلا نے مقف اختیار کیا کہ درخواست گزار اس مقدمے میں نامزد نہیں ہیں، اس لیے وہ اپنی عبوری ضمانت کی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے دائر درخواستیں واپس لینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانت کی درخواستیں نمٹا دیں۔پراسیکیوشن کے مطابق 9 مئی 2023 کو پشاور میں ریڈیو پاکستان پر حملہ کیا گیا تھا، جہاں مشتعل افراد نے ریڈیو پاکستان کی عمارت اور سرکاری املاک کو آگ لگا دی تھی۔ پولیس نے مقدمے میں 80 سے زائد ملزمان کو نامزد کیا، جن میں پاکستان تحریک انصاف کے موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ریڈیو پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ یو ایس بی کو پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا کو فرانزک و شناختی تصدیق کے لیے بھجوایا گیا ۔ پولیس کی جانب سے پیش کی گئی ضمنی رپورٹ میں وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیلآفریدی، تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر چمکنی سمیت دیگر افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ پولیس نے مقف اختیار کیا کہ چاروں درخواست گزار بھی پولیس کی پراگریس رپورٹ میں نامزد ہیں۔







