چینی ہائبرڈ ٹیکنالوجی سے پاکستانی زرعی پیداوار میں اضافہ

پاکستان میں چین کی زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے نتیجے میں نمایاں اور ٹھوس فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ یہ بات چینگدو میں پاکستان کے قونصل جنرل تنویر اے بھٹی نے 28 ستمبر کو 12ویں چینگدو انٹرنیشنل اربن ماڈرن ایگریکلچر ایکسپو کی افتتاحی تقریب اور کلسٹر و چین ڈویلپمنٹ کیلئے چینگدو ماڈرن اربن ایگریکلچر انویسٹمنٹ پروموشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔رپورٹ کے مطابق قونصل جنرل نے کہاکہ چین کے صوبہ سیچوان سے فراہم کردہ ہائبرڈ مرچ کی اقسام اور خشک کرنے والی ٹیکنالوجی نے پاکستانی کسانوں کی فی ایکڑ آمدن 300 ڈالر سے کم سے بڑھا کر 900 ڈالر تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تنویر بھٹی کے مطابق اس تعاون کے نتیجے میں پاکستان چین کی زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ انڈسٹری چین کا بھی براہِ راست حصہ بن گیا ہے جو اس بات کی کامیاب مثال ہے کہ زرعی تعاون غربت کے خاتمے اور دیہی معیشت کی بہتری میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی ہائبرڈ چاول کی ٹیکنالوجی بھی پاکستانی کسانوں کو پیداوار بڑھانے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تعاون کی رفتار کا اندازہ تجارتی اعداد و شمار سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔تجارتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی قونصل جنرل نے بتایا کہ 2026 کے پہلے سات ماہ کے دوران چین کو پاکستان کی چاول کی برآمدات میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جبکہ تل کی برآمدات بھی 72 فیصد بڑھ گئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون کی اہمیت محض تجارتی حجم میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ اس کا اصل فائدہ دونوں ممالک کے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی میں بہتری کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق تنویر بھٹی نے کہا کہ جب پاکستانی آم چینگدو کے گھروں کی کھانے کی میزوں تک پہنچتے ہیں اور پنجاب کے چاول کے کاشتکار چین میں تیار کردہ زرعی ایپلی کیشنز استعمال کرتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کے فوائد عملی اور فوری طور پر محسوس ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed