امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جلد از جلد اور شدت کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کرے گا یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ وہ خود کریں گے۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران ایک ناکام ہوتی ہوئی ریاست ہے اور وہ امریکا کے ساتھ فوری طور پر معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہناتھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے حتمی فیصلہ وہ خود کریں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل مسلسل جاری ہے جبکہ عالمی ممالک کو بحران ختم ہونے پر امریکا کو ہرجانہ اور اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔ امریکا نے ہمیشہ اپنے فائدے سے زیادہ دوسروں کی سلامتی کیلئے کام کیا۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دہائیوں سے عالمی توانائی اور سمندری راستوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا بڑی تعداد میں جدید ترین ہتھیار تیار کر رہا ہے، جبکہ مشرق وسطی اور دیگر عالمی اڈوں پر امریکی افواج کو جدید اسلحے کی فراہمی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کے تمام دفاعی کارخانے 24گھنٹے فعال ہیں اور 4سے 5نئے ملٹری پلانٹس کی تعمیر جاری ہے۔ پیٹریاٹ، تھاڈ اور ٹوماہاکس جیسے جدید میزائل سسٹمز کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس اعلی معیار کے میزائل اور دفاعی سسٹمز کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا میں مہنگائی کا ذمہ دار میں نہیں بلکہ جو بائیڈن انتظامیہ ہے، کیونکہ بائیڈن کے دور حکومت میں ایندھن کی قیمتیں موجودہ سطح سے بھی زیادہ تھیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ امریکی اقدامات کے باعث ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا گیا، اب امریکا میں ضروری اشیا کی قیمتیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ ملٹری تنازع ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں کمی ہو گی۔







